Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4027

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذَوِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهٗ أَنَا وَعُثْمَانُ اِبْنُ عَفَّانَ فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَضَعكَ اللّٰهُ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا قَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا بَنُوْ هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ هَكَذَا"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ نَحْوُهٗ وَفِيهِ: "إِنَّا وَبَنُو الْمُطَّلِبِ لَا نَفْتَرِقُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ" وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ.

وعن جبير بن مطعم قال: لما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم سهم ذوي القربى بين بني هاشم وبني المطلب أتيته أنا وعثمان ابن عفان فقلنا: يا رسول الله! هؤلاء إخواننا من بني هاشم، لا ننكر فضلهم لمكانك الذي وضعك الله منهم، أرأيت إخواننا من بني المطلب أعطيتهم وتركتنا، وإنما قرابتنا وقرابتهم واحدة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنما بنو هاشم وبنو المطلب شيء واحد هكذا"، وشبك بين أصابعه. رواه الشافعي، وفي رواية أبي داود والنسائي نحوه وفيه: "إنا وبنو المطلب لا نفترق في جاهلية ولا إسلام" وإنما نحن وهم شيء واحد"، وشبك بين أصابعه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قرابت داروں کا حصہ بنی ہاشم اور بنی مطلب میں تقسیم فرما دیا۲؎تو میں اور حضرت عثمان ابن عفان حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) یہ ہمارے بھائی بنی ہاشم ہم ان کی بزرگی کے منکر نہیں آپ کے ہونے کی وجہ سے کہ رب نے آپ کو ان میں پیدا فرمایا ۳؎ہمارے بھائیوں بنی مطلب کے متعلق حضور فرمائیں کہ آپ نے انہیں دیا اور ہم کو چھوڑ دیا۴؎حالانکہ ہمارا ان کا رشتہ ایک ہی ہے تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنی مطلب اس طرح ایک ہیں اور اپنی انگلیوں کو مختلط فرما دیا ۵؎(شافعی،ابوداؤد)اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے اور اس میں یہ ہے کہ میں اور بنی مطلب نہ دور جاہلیت میں الگ ہوئے نہ اسلام میں ہم اور وہ ایک ہی چیز ہیں اور اپنی انگلیوں شریف میں ۶؎اختلاط فرمادیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،نوفل ابن عبدمناف کی اولاد سے ہیں،عبدمناف کے چار بیٹے تھے ہاشم ،مطلب،نوفل اور عبدشمس،حضرت جبیر تو نوفل کی اولاد سے تھے حضرت عثمان اور تمام بنی امیہ عبدشمس کی اولاد سے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہاشم کی اولاد سے اسکی تفصیل پہلے فصل اول میں گزرچکی۔
۲
؎اور نوفل و عبدالشمس کی اولاد کو اس خمس میں سے کچھ نہ دیا جیساکہ پہلےگزرچکا اور نوفل کی اولاد سے میں تھا،عبدشمس کی اولاد سے حضرت عثمان۔
۳
؎یعنی اگرچہ نسبی رشتہ میں ہم سب حضور سے برابر تعلق رکھتے ہیں مگر بنی ہاشم کو اس لیے بزرگی ہے کہ حضور ان میں سے ہیں۔
۴
؎کیا ہم حضور کے ذی قرابۃ نہیں ہیں یقینًا ہیں تو حضور انور نے ہم کو ذی قربیٰ کا حصہ خمس سے کیوں نہ دیا۔
۵
؎یعنی نسبت میں تم اور بنی مطلب برابر ہو مگر خدمت میں بنی مطلب تم سے بڑھ کر ہیں کیونکہ ابتداء اسلام میں انہوں نے اسلام کی بڑی خدمات انجام دیں،تم لوگ بعد میں اسلام میں داخل ہوئے۔ بائیکاٹ کے زمانہ میں بنی ہاشم و مطلب ایک رہے مگر بنی نوفل اور بنی عبدشمس بائیکاٹ میں کفار کے ساتھ مل گئے لہذا ان کو تم پر فوقیت حاصل ہے۔
۶
؎اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت ساتھ دینے والے بڑی قدرومنزلت کے مستحق ہیں،یہ لوگ چونکہ مصیبت کے ساتھی ہیں لہذا اس خمس کے حق دار ہیں۔ اس کے متعلق فقہی احکام پہلےگزرچکے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4027