Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4017

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّ هٰذِهِ الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَصَابَهٗ بِحَقِّهٖ بُوْرِكَ لَهٗ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهٖ نَفْسُهٗ مِنْ مَالِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لَيْسَ لَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن خولة بنت قيس قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن هذه المال خضرة حلوة، فمن أصابه بحقه بورك له فيه، ورب متخوض فيما شاءت به نفسه من مال الله ورسوله ليس له يوم القيامة إلا النار". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خولہ بنت قیس سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ مال سرسبز میٹھا ہے۲؎جو اسے حق سے لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی۳؎بہت وہ لوگ جورسول کے مال میں گھس پڑتے ہیں جیسے ان کا دل چاہے قیامت کے دن ان کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کو خویلہ بھی کہا جاتا ہے جناب حمزہ کی زوجہ ہیں،قبیلہ وہینیہ سے ہیں۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎یہاں مال سے مراد مال غنیمت ہے یا مال سے مراد اموال جمع ہے اس لیے اسے مال مانا گیا اورخضرۃمؤنث ارشاد ہوا،چونکہ لفظًا مذکر ہے اس لیےاصابہوغیرہ صیغہ میں مذکر لائی گئیں۔ غرضیکہ معنی سے مؤنث ہے لفظًا مذکر لہذا ضمیروں کے اختلاف سے اعتراض نہیں ہوسکتا یعنی یہ مال دیکھنے میں اچھے استعمال میں مزیدار معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر حرام ہوں تو ہیں بڑے خطرناک۔
۳
؎حق سے مراد جائز ذریعہ ہے یا اپنا استحقاق یعنی اگر مال حلال راستے سے آئے تو برکت والا ہے ورنہ ہلاکت۔اگر ہوا باغ کے راستہ سے آئے تو بیماروں کو شفا دے دیتی ہے،اگر روڑی کے راستے سے آئے تو تندرستوں کو بیمارکردیتی ہے۔
۴
؎تخوضبنا ہےخوضسےبمعنی پانی میں گھس جانا جیسے بغیر سوچے سمجھے پانی میں گھس جانا باعث ہلاکت ہے کہ ڈوب کر یا لہروں سے یا بہ کر انسان مرجاتا ہے یوں بغیر تحقیق کیئے ہر طرح مال لے لینا باعث ہلاکت ہے۔ خیال رہےکہ حضور انور نے مال کو سبزے سے تشبیہ دی کہ جیسے سبزہ جلدخشک ہوجاتا ہےیوں ہی مال بہت جلد ختم ہوجاتا ہے اس کے لیے اپنا ایمان وتقویٰ برباد کرلینارسول کو ناراض کرلینا سخت غلطی ہے۔اس افصح الناس کی فصاحت پر قربان صلی اللہ علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4017