Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4015

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن شِرَى الْمَغَانِمِ حتّٰى تُقْسَمَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي سعيد قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شرى المغانم حتى تقسم رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تقسیم سے پہلے حصوں کی خریداری سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎شریسے مراد بیچناوخریدنا دونوں ہیں یعنی کوئی غازی اپنا غنیمت کا مال تقسیم اور قبض سے پہلے فروخت نہ کرے اور نہ کوئی اسے خریدے کیونکہ تقسیم سے پہلے یہ اپنے حصہ کا مالک ہی نہیں اور غیر مالک فروخت نہیں کرسکتا اور اگر اس طرح فروخت کیا کہ جو مجھے حصہ ملے گا وہ فروخت کرتا ہوں تو یہ مجہول و نامعلوم چیز کی بیع ہے یہ بھی ممنوع ہے،نیز کیا خبر کہ اسے غنیمت سے کچھ ملے گا یا نہیں بہت دفعہ کسی وجہ سے غازی غنیمت سے محروم ہوجاتا ہے لہذا یہ بیع خطرناک بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4015