Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4007

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الفِهْريِّ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الرُّبْعَ فِي البَدأَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن حبيب بن مسلمة الفهري قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم نفل الربع في البدأة، والثلث في الرجعة. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حبیب ابن مسلمہ فہری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ابتداء میں حضور نے چہارم نفل دیا اور لوٹنے پر تہائی ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قرشی فہری ہیں،آپ کو حبیب روم کہا جاتا تھا کیونکہ آپ نے روم پر بہت جہاد کیے،بڑے بزرگ مقبول الدعاءصحابی ہیں، ۴۲ھ؁ ∞ میں شام میں وفات پائی۔(اکمال،اشعہ،مرقات)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو الجزائر پر حاکم بنایا تھا۔
۲
؎جب فریقین کے لشکروں کا کچھ حصہ میدان جنگ میں پہنچ چکا ہو باقی لشکر پیچھے آرہا ہو اسے بدء کہتے ہیں اور جب لشکر جہاد سے واپس لوٹ جائیں کچھ لوگ وہاں رہ گئے ہوں اسے رجوع کہتے ہیں۔بدء والوں کی جنگ آسان ہے کہ لشکر پیچھے آرہا ہے ان کی مدد مل جاوے گی مگر رجعت والوں کا جہاد بہت مشکل کہ انہیں مدد ملنے کی امید نہیں کہ لشکر جاچکا اس لیے حضور انور نے بدء والوں کو کم نفل دیا یعنی چہارم اور رجوع والوں کو زیادہ دیا یعنی کل غنیمت کا تہائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4007