Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3990

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمَةِ عَامَّةِ الْجَيْشِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينفل بعض من يبعث من السرايا لأنفسهم خاصة سوى قسمة عامة الجيش. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم کچھ زیادہ عطا فرماتے تھے بعض بھیجے ہوئے لشکروں کو ان کی خاص ذات کے لیے سوا لشکر کے عام حصے کے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نفلکے معنی ہیں زیادتی اس سے ہےانفالاور نافلہ،اصطلاح میں نفل وہ مال کہلاتا ہے جوکسی غازی کو اس کے حصے سے زیادہ دیا جائے یا کسی بہادری کے صلہ میں یا جہاد کی رغبت دینے کے لیے۔حدیث کا مقصد یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کبھی بعض غازیوں کو ان کے عام حصے کے علاوہ جس کے وہ مستحق ہوتے تھے کچھ زیادہ بھی عطا فرماتے تھے۔اس زیادتی میں بہت حکمتیں ہوتی تھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3990