Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4001

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ فَضَّلَنِي عَلَى الأَنْبِياءِ -أَوْ قَالَ: فَضَّلَ أُمَّتِي عَلَى الأُمَمِ- وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله فضلني على الأنبياء -أو قال: فضل أمتي على الأمم- وأحل لنا الغنائم". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہنے مجھے تمام نبیوں پر بزرگی دی ۱؎یا فرمایا کہ میری امت تمام امتوں پر بزرگی دی گئی ۲؎اور ہمارے لیے غنیمتیں حلال فرمادیں۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎تمام نبیوں پر بے شمار بزرگیاں بخشیں،حضور کو آخری نبی،تمام خلق کا نبی،ہمیشہ تک کا نبی بنایا،رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین قرار دیا،تمام انبیاءورسل کل قیامت میں حضور کے جھنڈے تلے ہوں گے۔غرضیکہ ان کو وہ بزرگیاں بخشیں جو مخلوق کے وہم و گمان سے وراء ہیں یا دینے والا رب جانے یا لینے والا محبوب۔شعر
ندانم کدامی سخن گویمت کہ بالا تری زائچہ من گویمت
حیران ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
۲
؎چونکہ یہ امت خیرالرسل کی امت ہے اس لیے تمام امتوں سے افضل ہے ،رب فرماتاہے:"کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ"شعرلما دعا اﷲ راعینا لدعوتہ با فضل الرسل کنا افضل الاممیعنی جبتعالٰی نے ہمارے رسول کو افضل رسل کہا تو ہم افضل امم ہوگئے۔خیال رہے کہ جیسے حضور کی امت تمام امتوں سے افضل ہے حضور کی نسبت سے یوں ہی حضور کے والدین تمام نبیوں کے غیر نبی والدین سے،حضور کے صحابہ تمام صحابہ سے،حضور کے اہل بیت تمام نبیوں کے اہل بیت سے،حضور کا زمانہ تمام زمانوں سے،حضور کا شہر مدینہ تمام نبیوں کے شہروں سے غرضیکہ حضور کی ہر منسوب چیز دیگر انبیاء کرام کی ہر چیز سے افضل ہے،حضور کی ازواج پاک تمام نبیوں کی ازواج سے افضل،رب تعالٰی فرماتاہے: "یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ
۳
؎یعنی اس امت کی بہت سی خصوصیات ہیں:ان میں سے ایک یہ ہے کہ صرف اس امت کے لیے جہاد کی غنیمتیں حلال کی گئیں پچھلی امتوں میں جہاد تھا مگر غنیمتیں حلال نہ تھیں جیسے قربانی کا گوشت کہ صرف ہمارے لیے حلال ہوا۔لنامیں حضور انور نے اپنی ذات کریم کو بھی امت کے ساتھ ذکر فرمایا کرم نوازی کے طور پر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4001