Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4034

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ خَيبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، وَفُلَانٌ شَهِيدٌ، حتّٰى مَرُّوْا عَلٰى رَجُلٍ فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهٗ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ"، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: أَنَّهٗ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُوْنَ ثَلَاثًا" قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَادَيتُ: أَلَا إِنَّهٗ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُوْنَ، ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عباس قال: حدثني عمر قال: لما كان يوم خيبر أقبل نفر من صحابة النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: فلان شهيد، وفلان شهيد، حتى مروا على رجل فقالوا: فلان شهيد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كلا إني رأيته في النار في بردة غلها أو عباءة"، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا ابن الخطاب! اذهب فناد في الناس: أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون ثلاثا" قال: فخرجت فناديت: ألا إنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون، ثلاثا. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے خبردی کہ جب خیبر کا دن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت آئی وہ بولے فلاں اور فلاں شہید ہے حتی کہ ایک شخص پر گزرے تو بولے فلاں شہید ہے ۱؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے آگ میں دیکھا ہے۲؎ایک چادریا ایک عبا کی وجہ سے۳؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عمر ابن خطاب جاؤ لوگوں میں تین بار اعلان کردو کہ جنت میں نہ جائیں گے مگر مؤمن چنانچہ میں نکلا اور میں نے اعلان کیا کہ جنت میں نہ جائیں گے مگر مؤمن لوگ تین بار۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوتا ہے کہ خیبر میں چند حضرات شہید ہوئے تھے ہم نے خیبر میں سترہ شہداء خیبر کے مزارات کی زیارت کی جو تبوک سڑک پر واقع ہیں جن میں سے حضرت سلمہ ابن اکوع اور براء ابن بشر کے نام معلوم ہوسکے،باقی کے نام ہمارے مزور کو بھی معلوم نہ تھے۔والله اعلم!ان بزرگوں کا مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ شہید ہیں اور فورًا جنت میں پہنچ گئے کیونکہ شہید کی روح مرتے ہی جنت میں پہنچ جاتی ہے اس لیے اسے شہید کہتے ہیں یعنی جنت میں حاضر ہوجانے والا۔
۲
؎یعنی وہ شخص شہید تو ہے مگر جنت میں نہ پہنچا دوزخ کی آگ کی سزا پارہا ہے کیونکہ خیانت شہادت کے لیے مضر نہیں ثواب کے لیے نقصان دہ ہے۔
۳
؎یعنی چونکہ اس نے غنیمت کے مال سے ایک چادر قبلِ تقسیم سے لے لی تھی لہذا وہ آگ کا عذاب پارہا ہے میں اسے آگ میں دیکھ رہا ہوں۔معلوم ہوا کہ حضور اس دنیا میں رہ کر عالم غیب کی بھی ہر چیز دیکھ رہے ہیں اور ہرشخص کے ہر کھلے چھپے عمل بھی ملاحظہ فرمارہے ہیں،کہ فرمایا وہ آگ میں ہے کیونکہ اس نے خیانت کی تھی،آگ میں ہونا عالم غیب کی خبر ہے اور خیانت یہاں کا چھپا ہوا عمل،یہاں آگ سے مراد دوزخ کی آگ ہے۔
۴
؎یہاں جنت میں داخل ہونے سے مراد ہے اول داخلہ بغیر سزا بھگتے اور مؤمن سے مراد مؤمن کامل یعنی متقی مسلمان یعنی جنت میں اول داخلہ کامل مؤمن کو نصیب ہوگا جو ایمان و اعمال کا جامع ہو۔خیانت کرنے والا مؤمن اگرچہ شہید بھی ہوجاوے مگر اولًا جنت میں نہ جاسکے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ شہید کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں وہاں حقوق الہیہ کے گناہ مراد ہیں انسانی حقوق کی معافی مراد نہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4034