Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4005

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَر مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوْا فِيَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمُوْهُ أَنِّي مَمْلُوْكٌ، فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا، فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهٗ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ،وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ، فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ إِلَّا أَنَّ رِوَايَتَهٗ انْتَهَتْ عِنْدَ قَوْلِهِ: "الْمَتَاعِ".

وعن عمير مولى آبي اللحم قال: شهدت خيبر مع سادتي، فكلموا في رسول الله صلى الله عليه وسلم وكلموه أني مملوك، فأمرني فقلدت سيفا، فإذا أنا أجره فأمر لي بشيء من خرثي المتاع،وعرضت عليه رقية كنت أرقي بها المجانين، فأمرني بطرح بعضها وحبس بعضها. رواه الترمذي وأبو داود إلا أن روايته انتهت عند قوله: "المتاع".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمیر سے جو ابی اللحم کے مولیٰ ہیں ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اپنے مولاؤں کے ساتھ خیبر میں حاضر ہوا تو ان مولاؤں نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض معروض کی۲؎اور عرض کیا کہ میں غلام ہوں تو میرے متعلق حکم دیا مجھے ایک تلوار پہنادی گئی تو میں اسے کرہیٹرتا گھسیٹتا تھا۳؎پھر میرے لیے کچھ معمولی سامان کا حکم دیا ۴؎اور میں نے حضور پر ایک منتر پیش کیا جو میں دیوانوں پر کرتا تھا تو حضور نے مجھے کچھ نکال دینے کا حکم دیا اور کچھ کے باقی رکھنے کا ۵؎(ترمذی،ابوداؤد) مگر ابوداؤد کی روایت ان کے قولمتاعپر ختم ہوگئی۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عمیر اس وقت غلام تھے بعد میں آزاد ہوئے،انہیں اس وقت مولیٰ( مفتی)فرمانا آئندہ کے لحاظ سے ہے لہذا حدیث واضح ہے۔
۲
؎یا غزوہ میں بھرتی فرمالینے کی سفارش کی یا میری بہادری کی کچھ تعریف کی، دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔
۳
؎یہ تلوار کی عطا جہاد سے پہلے یا دوران جہاد میں تھی کہ حضور انو رکی طرف سے مجھے تلوار پہنائی گئی مگر میں اتنا چھوٹا یا پست قد تھا کہ تلوار میرے جسم کے نیچے گھسٹتی تھی۔
۴
؎خرثیخ کے پیش ر کے جزم سے بمعنی سرخ چیونٹی،اب اصطلاح میں معمولی اور چھوٹی چیز کوکہتے ہیں۔متاعسے مراد گھر کا سامان جیسے ہانڈی لوٹا وغیرہ یعنی مجھے بعد جہاد تقسیم غنیمت کے وقت کچھ معمولی سامان بطور عطیہ عنایت فرمایا باقاعدہ حصہ نہ دیا کیونکہ غلام کو غنیمت کا حصہ نہیں ملتا۔
۵
؎یعنی مجھے کچھ دم یاد تھا جو دیوانوں پر پڑھ کر دم کیا کرتا تھا جب حضور انور پر پیش کیا تو ناجائز یا شرکیہ کفریہ الفاظ کے نکال دینے کا حکم دیا اور جو الفاظ جائز تھے ان کے باقی رکھنے کی اجازت دی۔ قرآنی آیات اور منقولہ دعاؤں کے علاوہ تمام وظیفوں کا یہ ہی حکم ہے کہ جائز الفاظ باقی رکھے جائیں ناجائز نکال دیئے جائیں۔ان شاءاﷲاس کی تحقیقباب الرقیمیں آئے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4005