Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4009

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَّةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّوْمِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ، وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ،يُقَالُ لَهٗ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، فَأَتَيْتُهٗ بِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "لَا نَفَلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ" لأَعْطَيْتُكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي الجويرية الجرمي قال: أصبت بأرض الروم جرة حمراء فيها دنانير في إمرة معاوية، وعلينا رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من بني سليم،يقال له: معن بن يزيد، فأتيته بها، فقسمها بين المسلمين وأعطاني منها مثل ما أعطى رجلا منهم، ثم قال: لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا نفل إلا بعد الخمس" لأعطيتك. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوجویریہ جرمی سے کہ میں نے سلطنت معاویہ کے زمانہ میں ۱؎زمین روم میں ایک سرخ گھڑا پایا جس میں اشرفیاں تھیں اور ہمارے حاکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب تھے نبی سلیم کے جنہیں معن ابن یزید کہا جاتا تھا ۲؎میں وہ سب ان کے پاس لایا آپ نے وہ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا اور اس میں سے مجھے اتنا ہی دیا جتنا ان میں سے ایک شخص کو دیا۳؎پھر فرمایا اگر میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ نہیں ہے نفل مگر خمس کے بعد تو میں تم کو دے دیتا۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام حطان ابن خفاف ہے،قبیلہ جرم سے ہیں،تابعی ہیں،حضرت عبدابن مسعود اور معن ابن یزید سے سماع ثابت ہے، بصرہ کے باشندے،حضرت ابن عباس اور عبادہ ابن صاعت سے بھی ملاقات ہے،ثقہ ہیں۔
۲
؎یعنی امیر معاویہ کی سلطنت و حکومت کے زمانہ میں ملک روم پر غزوات ہوئے ان میں سے ایک غزوہ میں بھی شریک تھا جس میں یہ واقعہ میرا پیش آیا،یہ واقع فتح قسطنطنیہ کا نہیں کیونکہ اس غزوہ میں معن ابن یزید سپہ سالار نہ تھے بلکہ یزید ابن معاویہ سپہ سالار تھا،یہ غزوہ ۵۱؁ ∞ اکیاون ہجری میں ہوا، اس لشکر میں حضرت ابو ایوب انصاری اور امام حسین اور عبدابن عباس،عبدابن عمر،عبدابن زبیر جیسے حضرت سپاہیانہ شان سے شامل ہوئے۔(البدایہ والنہایہ جلد۸ص۵۱حاشیہ بخاری،اکمال)لہذا یہ غزوہ ہے تو روم پر ہی مگر فتح قسطنطنیہ کا غزوہ نہیں۔
۳
؎معن ابن یزید ابن اخنس سلمی خود بھی صحابی والد بھی دادا بھی،بدر میں حاضر ہوئے کوفہ میں قیام رہا بہت شاندار صحابی ہیں۔ (اکمال) یعنی مجھے اشرفیوں سے بھرا ہوا گھڑا مل گیا۔غنیمت میں حاصل نہ کیا گیا تھا میں وہ گھڑا اسی طرح سپہ سالار کے پاس لایا۔
۴
؎یعنی اس گھڑے میں آپ نے دو عمل کیے:ایک یہ کہ اس میں سے خمس نہ لیا۔دوسرے یہ کہ مجھے کچھ بھی زیادہ نہ دیا سب غازیوں کی برابر دیا۔
۵
؎اس جملہ کے بہت سے معنے کیے گئے ہیں۔ قوی معنی وہ ہیں جو شیخ نے اشعۃ اللمعات میں فرمائے وہ یہ کہ یہ مال غنیمت نہیں بلکہ فئ ہے جو بغیر لڑے کفار سے حاصل ہوا ہے اور غنیمت میں دو چیزیں ایسی ہیں جو فئ میں نہیں:ایک یہ کہ غنیمت سے خمس لیا جاتا ہے کہ پانچواں حصہرسول کا،باقی چار حصے مجاہدین کے۔دوسرے یہ کہ غنیمت میں نفل بھی دیا جاسکتاہے،فئ میں سے نہ خمس لیا جائے نہ نفل دیا جائے اس لیے میں تم کو کچھ زیادہ نہیں دے سکتا، اگر یہ مال قابل خمس ہوتا تو میں تم کو نفل بھی دیتا اب سب مجاہدین کو برابر ہی دوں گا لہذا یہاںلاعطیتك نفلًاتھا۔نفلًامحذوف ہے۔ مرقات نے ایک معنی یہ بھی بیان کیے کہ نقل خمس کے بعد ہی ہوتا ہے اور خمس جب لیا جاتا ہے جب وہ مال دار اسلام میں محفوظ ہوجائے،ابھی یہ مال وہاں پہنچا نہیں لہذا نہ قابل خمس ہے نہ قابل نفل،مرقات نے اس توجیہ کوپسند فرمایا۔واﷲ ورسولہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4009