Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4013

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ حَرَّقُوْا مَتَاعَ الْغَالِّ وَضَرَبُوْهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمر حرقوا متاع الغال وضربوه. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت عمر نے غلول کرنے والے کا سامان جلایا اسے مارا ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بنا پر خواجہ حسن بصری وغیرہم فقہاء نے فرمایا کہ سوا جانور،غلام،قرآن مجید کے باقی سامان مغصوبہ جلا دیا جائے۔ امام احمدواسحاق نے فرمایا کہ یہ مال مغصوبہ نہ جلایا جائے کہ یہ تو مجاہدین کا حق ہے۔غاصب کا خود اپنا وہ مال جلادیا جائے جسے لےکر وہ میدانِ جہاد میں گیا تھا۔امام اعظم وشافعی و مالک رحمۃعلیہم فرماتے ہیں کہ یہ عمل شریف زجر تھا اب اس کا کوئی مال جلایا نہ جائے گا بلکہ اسے تعزیر و سزادی جائی گی۔چنانچہ بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ حضور انور نے غالی کو سزا دی مگر اس کا مال جلایا نہیں،نیز اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق عثمان غنی علی مرتضٰی نے بھی جلایا نہیں لہذا یہ عمل فقط زجروتوبیخ کے لیے تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4013