Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4000

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَالْتَزَمْتُهٗ، فَقُلْتُ: لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هٰذَا شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ إِلَيَّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "مَا أُعْطِيكُمْ" فِي "بَابِ رِزْقِ الْوُلَاة".

وعن عبد الله بن مغفل قال: أصبت جرابا من شحم يوم خيبر، فالتزمته، فقلت: لا أعطي اليوم أحدا من هذا شيئا، فالتفت فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يتبسم إلي. متفق عليه. وذكر حديث أبي هريرة: "ما أعطيكم" في "باب رزق الولاة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن مغفل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک چربی کا تھیلا پایا تو میں اسے لپٹ گیا میں نے کہا کہ آج میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا ۲؎پھر میں نے ادھر ادھر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میری طرف مسکرا رہے تھے ۳؎(مسلم،بخاری) حضرت ابوہریرہ کی حدیثما اعطیکمالخ حکام کی روزی کے باب میں ذکر کردی گئی۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،اصحاب صفہ سے ہیں،مزنی ہیں،مدینہ منور ہ میں رہے،خلافت فاروقی میں دس فقہاء بصرہ بھیجے گئے لوگوں کو علم دین سکھانے کے لیے ان میں آپ بھی تھے،وہاں ہی ۶۰ھ؁ ∞ میں وفات پائی،خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ بصرہ میں ان سے بہتر کوئی نہ ہوا۔
۲
؎غالبًا اس وقت آپ کو اس کی سخت ضرورت تھی اس لیے مجبوری میں یہ لفظ آپ کے منہ سے نکلا ورنہ حضرات صحابہ اپنی ضروریات پر دوسروں کو مقدم رکھتے تھے"وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ
۳
؎یعنی حضور انور نے مجھے اس ارادے سے اور اس قبضہ سے روکا نہیں بلکہ تبسم فرمایا جس سے اجازت معلوم ہوئی کیونکہ کسی عمل کو دیکھ کر منع نہ فرمانا اجازت کی علامت ہے،محدثین اسے سنت سکوتی کہتے ہیں۔
۴
؎یعنی یہ حدیث مصابیح میں مکرر تھیکتاب القضا باب رزق ولاۃمیں بھی تھی اور یہاں بھی،میں نے صرف وہاں بیان کی یہاں سے اُڑا دی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4000