Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4031

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ -يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ- فَقَالَ: "إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللّٰهِ وَحَاجَةِ رَسُوْلِهٖ وَإِنِّي أُبَايعُ لَهٗ" فَضَرَبَ لَهٗ رسولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ وَلَمْ يَضْرِبْ بِشَيْءٍ لِأَحَدٍ غَابَ غَيْرُهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام -يعني يوم بدر- فقال: "إن عثمان انطلق في حاجة الله وحاجة رسوله وإني أبايع له" فضرب له رسول الله صلى الله عليه وسلم بسهم ولم يضرب بشيء لأحد غاب غيره. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن پس فرمایا کہ عثمانتعالٰی کے کام اور اس کے رسول کی خدمت میں گئے ہیں ۱؎ان کی بیعت میں کرتا ہوں۲؎چنانچہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا ان کے سوا کسی غائب شخص کا حصہ مقرر نہ کیا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎غزوہ بدر کے موقعہ پر حضور انور کی صاحبزادی بی بی رقیہ جو حضرت عثمان غنی کی زوجہ مطہرہ تھیں سخت بیمار تھیں،ان کی تیمارداری کرنے کے لیے عثمان غنی کو حضور انور نے مدینہ منورہ میں ہی چھوڑا بدر میں ساتھ نہ لے گئے حتی کہ حضور کے پیچھے ہی ان کی وفات ہوگئی اور دفن کردی گئیں۔(مرقات)یہ فرمان عالی بدر کی غنیمت تقسیم فرماتے وقت کا ہے۔خیال رہے کہ جناب رقیہ کی تیمارداری حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت تھی مگر اس کورسول کا کام فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ حضور کی فرمانبرداری رب تعالٰی کی اطاعت ہے۔
۲
؎چنانچہ حضور انور نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھایا اور فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور اپنے داہنے ہاتھ کو فرمایا کہ یہ ہمارا ہاتھ ہے اور خود ہی حضرت عثمان کی طرف سے بیعت کی، اس بیعت عثمان کا واقعہ دوبار ہوا۔ ایک تو غزوہ بدر میں دوسرے بیعت الرضوان میں مقام حدیبیہ میں یہ ہے حضرت عثمان کی شان رضی اللہ عنہ۔
دست حبیب خدا جو کہ ید
تھا ہاتھ بنا آپ کا آپ وہ ذی شان ہیں
۳
؎یعنی حضرت عثمان کو بدر والوں کا صرف ثواب نہ ملا بلکہ غنیمت کا حصہ بھی ملا آپ صرف حکمًا غازی بدر نہ ہوئے بلکہ حقیقتًا غازی مانے گئے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک و مختار ہیں اگر چاہیں تو مدینہ کی زمین کو بدر کا میدان بنادیں،گھر میں رکھ کر غازیوں میں ملادیں۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ حضور کی اطاعت رب تعالٰی کی اطاعت ہے،دیکھو حضرت عثمان مدینہ منورہ میں حضور کے کام کے لیے رہے تھے یعنی بی بی رقیہ کی تیمارداری مگر فرمایافی حاجۃ اﷲ وحاجۃ رسولہحاجت سے مراد کام یا خدمت ہے نہ کہ ضرورت کہتعالٰی ضرورت اور محتاجی سے پاک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4031