Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4020

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنتُمْ تُخَمِّسُوْنَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكَانَ الرَّجُلُ يجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن محمد بن أبي المجالد عن عبد الله بن أبي أوفى قال: قلت: هل كنتم تخمسون الطعام في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أصبنا طعاما يوم خيبر، فكان الرجل يجيء فيأخذ منه مقدار ما يكفيه ثم ينصرف. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن ابی المجالد سے وہ عبدابن ابی اوفیٰ سے راوی ۱؎فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا آپ لوگ۲؎رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں کھانے سے خمس نکالا کرتے تھے۳؎وہ بولے کہ ہم نے خیبر کے دن کھانا پایا تو کوئی شخص آتا تو اس ہی سے اپنی کفایت کی بقدر لے لیتا پھر لوٹ جاتا ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎محمد ابن ابی المجالد تابعی ہیں،کوفہ کے رہنے والے ہیں،بہت صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے اور عبدابن ابی اوفی مشہور صحابی ہیں،انصاری ہیں،احد اور بعد احد غزوات میں شریک ہوئے، ۵۴ھ؁ ∞ چون میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔
۲
؎محمد ابن ابوالمجالد نے حضرت عبدابن اوفی صحابی سے تمام صحابہ کرام کا عمل پوچھا اس نےکنتماورتخمسونجمع بولا۔
۳
؎طعامسے مراد ہے پکا ہوا کھانا اور سبزیاں اور سبز میوے جو جلد خراب ہوجاتے ہیں کہ ان میں بھی خمس کے بعد تقسیم غنیمت ہوتی تھی یا ان چیزوں میں آزادی تھی۔
۴
؎خلاصہ یہ ہے کہ اس قسم کی غنیمت سے خمس نہ لیا جاتا تھا لیکن ہر مجاہد اپنی ضرورت کے مطابق لے لیتا تھا اور ذخیرہ کرکے گھر نہ لاتا تھا وہاں ہی استعمال کرلیتا تھا اس کا تفصیلی بیان گزرچکا یعنی ان ضروریات سے جو باقی بچتا تھا اس سے خمس نہ لیا جاتا تھا تقسیم باقاعدہ کیاجاتا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4020