- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3986
باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3986
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَضَرَبْتُهٗ مِنْ وَرَائِهٖ عَلٰى حَبْلِ عَاتِقِهٖ بِالسَّيْفِ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللّٰهِ، ثُمَّ رَجَعُوْا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهٗ عَلَيْهِ بَيِّنةٌ فَلَهٗ سَلَبُهٗ" فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهٗ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهٗ فَقُمْتُ فَقَالَ: "مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ " فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ وَسَلَبُهٗ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: لَا هَا اللّٰهِ، إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللّٰهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهٗ. فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَدَقَ فَأَعْطِهِ" فَأَعْطَانِيهِ، فَابْتَعْتُ بِهٖ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهٗ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهٗ فِي الإِسْلَامِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي قتادة قال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم عام حنين، فلما التقينا كانت للمسلمين جولة، فرأيت رجلا من المشركين قد علا رجلا من المسلمين، فضربته من ورائه على حبل عاتقه بالسيف، فقطعت الدرع وأقبل علي فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت، ثم أدركه الموت فأرسلني، فلحقت عمر بن الخطاب فقلت: ما بال الناس؟ قال: أمر الله، ثم رجعوا وجلس النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه" فقلت: من يشهد لي؟ ثم جلست فقال النبي صلى الله عليه وسلم مثله، فقلت: من يشهد لي؟ ثم جلست، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم مثله فقمت فقال: "ما لك يا أبا قتادة؟ " فأخبرته فقال رجل: صدق وسلبه عندي فأرضه مني، فقال أبو بكر: لا ها الله، إذا لا يعمد إلى أسد من أسد الله يقاتل عن الله ورسوله فيعطيك سلبه. فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "صدق فأعطه" فأعطانيه، فابتعت به مخرفا في بني سلمة، فإنه لأول مال تأثلته في الإسلام. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حنین کے سال گئے ۱؎تو جب ہم ملے تو مسلمانوں میں بے چینی ہوگئی میں نے مشرکین کے ایک شخص کو دیکھا ۲؎کہ وہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان پر غالب آگیا ۳؎تو میں نے اس کے پیچھے سے اس کی گردن کی رگ پر تلوار ماری ۴؎تو میں نے زرہ کاٹ دی وہ مجھ پر متوجہ ہوگیا مجھے خوب لپٹ گیا میں نے اس سے موت کی بو پالی ۵؎پھر اسے موت نے پالیا تب اس نے مجھے چھوڑ دیا میں حضرت عمر ابن خطاب سے ملا میں نے کہا لوگوں کا کیا حال ہوگیا ہے فرمایاﷲکا حکم ۶؎پھر غازی لوٹ پڑے ۷؎اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف فرما ہوئے تو فرمایا کہ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا ہو جس کی گواہی اس کے پاس ہو تو اس کا سامان قاتل ہی کا ہے ۸؎تو میں بولا کہ میری گواہی کون دے گا پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں نے پھر کہا کہ میری گواہی کون دیتا ہے پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں پھر کھڑا ہوا ۹؎تو فرمایا اے ابو قتادہ تمہارا کیا حال ہے چنانچہ میں نے حضور کو خبر دی تو ایک شخص بولا حضور یہ سچے ہیں اور اس کافر کا سامان میرے پاس ہے حضور انہیں میرے متعلق راضی فرمائیں ۱۰؎ابوبکر صدیق نے فرمایاﷲکی قسم تب تو حضور (ّصلی اللہ علیہ و سلم)ﷲکے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف یہ قصد بھی نہ کریں گے کہ جوﷲرسول کی طرف جہاد کرے تجھے اس کا سامان دے دیں ۱۱؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ سچے ہیں اسے سامان دے دو چنانچہ اس نے وہ مجھے دے دیا تو میں نے اس کا ایک باغ بنی سلمہ میں خریدا ۱۲؎یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں جمع کیا۔(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت ابوقتادہ مشہور صحابی ہیں اور حنین مکہ معظمہ و طائف کے درمیان ایک جنگل ہے وہاں قبیلہ بنی ہوازن سے مسلمانوں کی مشہور جنگ ہوئی ہے فتح مکہ کے بعد۔فقیر نے اس جنگل کی زیارت کی ہے۔اس جنگ کا ذکر قرآن کریم میں صراحۃً ہوا ہے۔
۲؎جولۃکے لغوی معنی ہیں بے قراری ،حرکت،آگے پیچھے دوڑنا۔راوی نے غزوہ حنین کی اول حالت کو مسلمانوں کی شکست نہ فرمایا کیونکہ حقیقۃً شکست نہ ہوئی تھی بلکہ ہوازن کی سخت تیر اندازی کی وجہ سے مسلمان پہلے کچھ گھبرا گئے تھے اور ان میں افراتفری مچ گئی تھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضور کے ساتھ مسلمانوں کی ایک جماعت اپنی جگہ سے قطعًا نہ ہلی تھی لہذا مسلمانوں کی یہ افراتفری شکست نہ کہلائی۔اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ اس جنگ میں مسلمان بارہ ہزار تھے،کفار کی تعداد اس سے کم تھی ان کے دل میں خیال ہوا کہ آج ہم بہت تعداد میں ہیں ضرور غالب آئیں گے۔رب کو یہ پسند نہ آیا کہ مسلمانوں خصوصًا صحابہ کرام کی نظر رب کے کرم سے ہٹے، اپنی کثرت پر ٹھہرے اس لیے یہ ہیجان پیدا ہوگیا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ"یہاں اس کا بیان ہے۔
۳؎اس طرح کہ اس مشرک نے مسلمان کو دبوچ لیا تھا اور قتل کرنے کے لیے تلوار نکال لی تھی کہ پیچھے سے میں نے اس مشرک پر حملہ کردیا
۴؎حبل عاتقہ وہ رگ ہے جو گردن سے کندھے تک ہے یہ شہ رگ نہیں ہے۔
۵؎یعنی میں نے اس مشرک پر ایسا سخت وار کیا کہ اس کی زرہ کاٹ کر گردن بھی سخت زخمی کردی وہ اس سے گھبرا گیا اس دبوچے ہوئے مسلمان کو چھوڑ کر مجھ سے لپٹ گیا مگر اس پر نزع کے آثار نمودار تھے اور وہ قریب موت تھا چنانچہ وہ کافر اسی حال میں مر گیا۔
۶؎یعنی مسلمانوں کی یہ افراتفری رب تعالٰی کے ارادے سے ہے جو وہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے یا گھبراؤ متان شاءاﷲہمیںﷲکی نصرت حاصل ہوگی اور مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے قدم جم جائیں گے اور مسلمانوں کی فتح ہوگی۔ﷲتعالٰی نے حضرت عمر کی یہ پیش گوئی سچی فرمادی۔(مرقات و اشعہ)
۷؎اس طرح کہ ابوسفیان آج حضور انور کی سواری کی مہار تھامے تھے اور حضرت عباس سواری کے پیچھے تھے حضرت عباس نے گرج کر پکارا کہﷲکے بندو رسولﷲیہاں ہیں ان کے پاس آؤ یہ آواز تمام غازیوں کے کان میں پہنچی سب لوگ حضور کے پاس جمع ہوگئے اور پھر جم کر حملہ کیا،ﷲتعالٰی کے فضل سے جنگ جیت لی اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ شجاعت ظاہر ہوئی کہسبحان اﷲ!حضور انور کے ساتھی چند غازی تھے تمام کفار نے مل کر حضور کی سواری کو گھیر لیا اور چوطرفہ سے حضور پر حملہ کردیا حضور انور یہ کہتے ہوئے سواری سے اترےانا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلبمیں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں،تلوار سونتی سواری سے اترنا تھا کہ کفار کائی کی طرح پھٹ گئے کوئی حضور پر حملہ نہ کرسکا ۔
۸؎سلبہسے مراد مقتول کا سامان ہے جیسے جوڑا،گھوڑا،ہتھیار وغیرہ۔اس غزوہ حنین میں حضرت ابوطلحہ نے بیس کفار قتل کیے اور ان سب کا سامان پالیا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی و احمد کے ہاں یہ شرعی قانون ہے کہ جو غازی کسی کافر کو مارے تو اس کا سامان اسے ملے گا بشرطیکہ وہ غنیمت کا حصہ لینے کا حق دار ہو۔امام اعظم کے ہاں یہ قانون نہیں بلکہ بطور نفل ملے گا،اگر حاکم چاہے تو دے کیونکہ ایک حدیث میں یوں ہے کہ حضور نے غازی قاتل سے فرمایالیس لك حتی سلب قتیلك الاطابت بہ نفس امامكتم کو مقتول کا وہ ہی مال ملے گا جو امام چاہے،نیز ابوجہل کو دو صاحبوں معاذ ابن عمرو اور معاذ ابن عفرء نے قتل کیا مگر حضور نے اس مردود کا سامان ایک صاحب معاذ ابن عمر ابن جموح کو دیا لہذا حق یہ ہی کہ حضور عالی کا یہ فرمان قانون جہاد نہیں بلکہ اپنے اختیار کا اعلان ہے۔
۹؎یہ باربار کھڑا ہونا تلاش گواہ کے لیے تھا۔خیال رہے کہ امام شافعی کے ہاں قاتل غازی کو مقتول کا سامان شرعی گواہی ملنے پر دیا جائے گا،امام مالک کے ہاں اس بارے میں صرف غازی کا قول معتبر ہوگا گواہی ضروری نہیں،وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ شرعی گواہی ہوتی تو دو گواہ چاہیے تھے ایک کافی نہ ہوتا کیونکہ یہ مال سارے غازیوں کا حق تھا صرف ایک گواہ سے کیسے دیا جاسکتا تھا لہذا امام مالک کے ہاں یہاںبیّنہسے مراد گواہ نہیں بلکہ مطلقًا ثبوت ہے خواہ کسی غازی کی تصدیق ہو یا اور کوئی علامت۔(دیکھو مرقات)
۱۰؎یعنی واقعی اس کافر کا قاتل یہ ہی ہے اس مقتول کا سامان میں نے لے لیا ہے حضور ان سے فرمادیں کہ وہ سامان مجھے دے دیں یا مجھے اس میں شریک کر لیں ان کی مہربانی ہوگی۔
۱۱؎سبحان اﷲ!حضرت صدیق اکبر و اطہر نے کیا اچھا جواب دیا یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بہادری کے جوہر تو ابوقتادہ دکھائیں اور ان کا حق تم کو دے دیا جائے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں بہادری دکھانے والوں کو خصوصی انعام و اکرام یا تمغہ وغیرہ دینا جائز ہے۔اس سے غازیوں کی ہمت بڑھتی ہے دوسروں کوبہادری دکھانے کا شوق ہوتا ہے۔اس انعام سے ثواب اخروی مطلقًا کم نہیں ہوتا اب بھی حکومتیں اس پرعمل کرتی ہیں،ابھی ہماری پاکستانی فوج کے چھوٹے سے دستے نے رن کچھ میں بڑی بھارتی فوج کو شکست فاش دی بہت مال غنیمت حاصل کیا حکومت پاکستان نے ان بہادروں کی بہت حوصلہ افزائی کی یہ عمل اس حدیث سے ثابت ہے۔
۱۲؎معلوم ہوتا ہے کہ یہ مال بہت تھا اور قیمتی تھا جس سے پورا باغ خرید لیا گیا۔خیال رہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ مقتول کا سامان غازی قاتل کو دینا بطور نفل ہے،اگر سلطان چاہے تو دے اور امام شافعی کے ہاں قانون شرعی ہے سلطان راضی ہو یا نہ ہو بہرحال سامان قاتل ہی کو ملے گا۔امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دلیلیں تھیں احادیث میں جو یہاں مرقات نے نقل فرمائیں:ایک وہ جو طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط بروایت حبیب ابن سلمہ فہری نقل کی کہ حضرت حبیب نے صاحب قبرص کو قتل کیا جس کے پاس زمرد یاقوت موتی وغیرہ بہت سامان تھا وہ اس کا یہ سامان اور پانچ خچر ریشمی کپڑا حضرت ابوعبیدہ ابن جراح کی خدمت میں لائے، جناب ابوعبیدہ نے اس میں خمس لینا چاہا انہوں نے یہ ہی حدیث پیش کیمن قتل قتیلا فلہٗ سلبہٗتو حضرت ابوعبیدہ نے فرمایاانما للمراء ما طابت بہ نفس امامہ۔دوسری وہ حدیث جو مسلم،بخاری نے نقل فرمائی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوجہل کے دو قاتلوں سے فرمایا کہ تم دونوں نے اسے قتل کیا مگر ابوجہل کا سامان صرف معاذ ابن عمرو کو عطا فرمایا۔تیسرے غزوہ موتہ کا وہ واقعہ جو مسلم وابوداؤد نے بروایت عوف ابن مالک اشجعی روایت کیا کہ ایک شخص نے کسی رومی کافر کو قتل کیا جس کے پاس اعلیٰ گھوڑے سونے کی زین زیوروں سے آراستہ ہتھیار تھے اس شخص نے یہ سب خود لینا چاہا حضرت خالد ابن ولید نے انکار کیا،یہ مقدمہ بارگاہِ نبوت میں پیش ہوا اولًا تو حضور نے فرمایا خالد اسے یہ سب کچھ دے دو،پھر فرمایا اسے کچھ نہ دو ہم اپنے سرداروں کی ذلت نہیں چاہتے لہذا یہ سلب نفل ہے اگر امام چاہے دے یا نہ دے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3986