- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3992
باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3992
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهٗ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُوْنَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي رِوَايَةٍ: أَبَقَ عَبْدٌ لَهٗ فَلَحِقَ بِالرُّوْمِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُوْنَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وعنه قال: ذهبت فرس له فأخذها العدو، فظهر عليهم المسلمون فرد عليه في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفي رواية: أبق عبد له فلحق بالروم فظهر عليهم المسلمون، فرد عليه خالد بن الوليد بعد النبي صلى الله عليه وسلم. رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میرا گھوڑا بھاگ گیا تو اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر ان پر مسلمان غالب آگئے تو وہ گھوڑا حضور ہی کے زمانہ میں انہیں لوٹا دیا گیا ۱؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ان کا غلام بھاگ کر روم سے مل گیا پھر ان پر مسلمان غالب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد خالد ابن ولید نے ان پر لوٹا دیا ۲؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی بحالت جنگ میرا گھوڑا چھوٹ کر کفار کی طرف چلا گیا انہوں نے پکڑ لیا پھر جنگ کے نتیجہ کے طور پر مسلمان کفار پر غالب آگئے ان کا مال غنیمت ہمارے ہاتھ لگا،اس مال میں یہ گھوڑا بھی تھا تو حضور انور نے اسے غنیمت بنا کر تقسیم میں داخل نہ فرمایا بلکہ مجھے دیدیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے کہ کفار اس گھوڑے کو ابھی اپنے ملک میں لے گئے تھے،نیز تقسیم غنیمت سے پہلے یہ گھوڑا حضرت ابن عمر نے پہچان لیا۔ایسا مال احناف کے نزدیک بھی مالک کو ملتا ہے غنیمت میں نہیں۔اختلاف اس مال میں ہے جو مسلمان کا تھا کفار کے ملک میں رہ گیا یا وہ چھین کر اپنے ملک میں لے گئے اور پھر غنیمت میں آیا جس کو تقسیم کردیا گیا پھر مالک نے پہنچانا۔
۲؎یہ غلام مسلمان تھا اور بھاگ کر دارحرب یعنی روم میں پہنچ گیا کفار نے پکڑ لیا ایسا غلام کفار کی ملک نہیں بن جاتا۔جب غنیمت میں آوے گا مالک کو ملے گا،ہاں جو غلام مرتد ہوکر دار حرب میں پہنچ جائے کفار اس پر قبضہ کرلیں پھر غنیمت میں آوے تو یہ مال غنیمت ہوکر تقسیم ہوگا مالک کو واپس نہ ملے گا لہذا یہ حدیث بالکل ظاہر ہے۔خیال رہے کہ جو مسلمان یا مال دارحرب میں رہ جائے یا کفار جنگ میں چھین کر اپنے ملک میں لے جاویں وہ مال احناف کے ہاں کفار کی ملک بن جاتا ہے مسلمان کی ملک سے نکل جاتا ہے،لہذا اگر کوئی مسلمان یہ مال کفار سے خرید کر ہمارے ملک میں لے آئے تو پہلا مالک اس سے نہیں لے سکتا یہ خریدار ہی مالک ہوگا،یوں ہی اگر وہ مال غنیمت میں آجاوے تو تقسیم ہوگا اس مالک کو نہ ملے گا یہ ہے مذہب احناف کا مگر امام شافعی کے ہاں وہ مال مسلمان مالک ہی کا رہے گا اُسے ہی واپس دیا جائے گا۔وہ اس حدیث سے بھی دلیل پکڑتے ہیں اور اس واقعہ سے بھی کہ ایک بار حضور کی اونٹنی عضباء کو کفار مدینہ لے گئے اور ایک مؤمنہ عورت کو بھی،ایک شب موقعہ پا کر یہ بی بی اسی اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ پہنچ گئی اور نذر مانی کہ مولیٰ اگر میں بخیریت مدینہ پہنچ جاؤں تو اس اونٹنی کو ذبح کرکے تیرے نام پر خیرات کردوں گی،جب حضور انور سے یہ واقعہ عرض کیا تو فرمایا کہ غیر کے ملک میں نذر جائز نہیں اور وہ اونٹنی حضور نے خود لے لی کہ آپ کی تھی مگر امام فرماتے ہیں کہ یہ اونٹنی ابھی دارالحرب تک پہنچی نہ تھی راستہ سے ہی بی بی صاحبہ لے کر آگئیں اور وہ غلام مسلمان تھا لہذا یہ دونوں کفار کے ملک میں نہ آئے۔امام اعظم کے دلائل حسب ذیل ہیں:(۱)قرآن کریم نے ان مہاجرین کو جو مکہ معظمہ میں اپنا بہت مال جائیداد چھوڑ آئے تھے فقرا فرمایا کہ فرمایا: "لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ"اور فقیر وہ ہوتا ہے جو مال کا مالک نہ ہو کہ وہ چھوڑنے کے بعد اپنے متروکہ مالوں کے مالک نہ رہے(۲) حضور انور نے فتح مکہ فرماکر مہاجرین کے مکانات جائیدادیں انہیں واپس نہ فرمائیں حتی کہ کفار نے جو مال ان میں سے فروخت کردیئے تھے ان کی بیع جائز رکھی(۳) عقیل ابن ابو طالب نے جو مکانات فروخت کردیئے ان کی بیع جائز رکھی کہ فتح مکہ کے دن فرمایا ہم کہاں ٹھہریں عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان باقی نہ چھوڑا حالانکہ ان مکانات کے مالک حضرت علی و جعفر بھی تھے(۴) ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں تمیم ابن طرفہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے کسی کے پاس اپنی اونٹنی پائی وہ دونوں حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے مالک نے اپنی ملکیت پرگواہی قائم کردی،مدعیٰ علیہ نے اس پر گواہی قائم کردی کہ میں نے کفار سے یہ خریدی ہے تو حضور نے پہلے مالک سے فرمایا کہ تم خرید سکتے ہو ایسے ہی نہیں لے سکتے(۵) بیہقی و دار قطنی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی مسلمان کا جو مال کفار اپنے ملک میں لے جاویں پھر مسلمان ان سے غنیمت میں وہ مال لے لیں تو اگر تقسیم غنیمت سے پہلے مالک نے لے لیا تو اس کا ہے بعد تقسیم غنیمت جس کو مل جائے اس کا ہے(۶) دار قطنی حضرت ابن عمر سے یہ ہی روایت کی(۷) طبرانی نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا یہ ہی روایت کی(۸)طحاوی نے بروایت قبیصہ ابن ذویب حضرت عمر سے یہ ہی روایت کی(۹)طحاوی نے حضرت زید ابن ثابت سے یہ ہی روایت کی(۱۰)طحاوی نے حضرت علی سے روایت کی تو آپ نے فرمایا کہ مسلمان کا مال جو کوئی دارالحرب میں کسی کافر سے خریدے تو بیع درست ہے غرضیکہ مذہب حنفی بہت ہی قوی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3992