Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4011

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَذَكَرُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "صَلُّوْا عَلٰى صَاحِبِكُمْ" فَتَغَيَّرَتْ وُجُوْهُ النَّاسِ لِذٰلِكَ فَقَالَ: "إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ" فَفتَّشْنَا مَتَاعَهٗ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُوْدَ لَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن يزيد بن خالد: أن رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي يوم خيبر، فذكروا لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "صلوا على صاحبكم" فتغيرت وجوه الناس لذلك فقال: "إن صاحبكم غل في سبيل الله" ففتشنا متاعه فوجدنا خرزا من خرز يهود لا يساوي درهمين. رواه مالك وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے یزید ابن خالد سے ۱؎کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک شخص خیبر کے دن وفات پا گیا لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ذکر کیا تو فرمایا تم لوگ اپنے صاحب کے لیے نماز پڑھ لو اس سے لوگوں کے منہ کے رنگ بدل گئے ۲؎تو فرمایا کہ تمہارے اس صاحب نے راہِ خدا میں خیانت کی ہے۳؎چنانچہ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہم نے کچھ منکے یہود کے منکوں سے پائے جو دو درہموں کے برابر نہ تھے۴؎(مالک،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں مؤلف سے خطا ہوگئی، یزید ابن خالد کوئی صحابی نہیں بلکہ آپ زید ابن خالد ہیں،ان کی کنیت ابو طلحہ ہے یا ابو عبدالرحمن جہنی ہیں،کوفہ میں رہے،پچاس سال عمر پائی، ۸۵؁ ∞ پچاسی ہجری میں وفات ہوئی۔(اشعہ)
۲
؎افسوس یا حیرت کی وجہ سے کہ حضور انور نے خود ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی حاضرین صحابہ سے پڑھوا دی۔ معلوم ہوا کہ حضور ناراض ہیں یہ حضور کا نماز نہ پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے سرکار عالی نے مقروض میت کی نماز نہ پڑھی صحابہ کرام سے پڑھوادی۔
۳
؎یعنی غنیمت میں خیانت کی اور غنیمت کا مال راہِ خدا کا مال ہے۔
۴
؎یعنی اس مرنے والے نے نہایت معمولی قیمت کے کچھ جھوٹے موتی تقسیم سے پہلے لے لیے تھے اس معمولی چیز کی وجہ سے حضور کی نماز سے محروم ہوگئے۔ خیال رہے کہ یہ جرم گناہ صغیرہ ہے جو ایک بار ان صحابی سے سرزد ہوا،لہذا یہ فسق نہیں تمام صحابہ عادل ہیں۔فسق کے معنی ہیں گناہ کبیرہ کرنا یا گناہ صغیرہ ہمیشہ کرتے رہنا۔تعالٰی نے اپنے محبوب کے صحابہ کو فسق سے بچایا ہے "وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی"لہذا وہ مقروض صحابہ جن پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز نہ پڑھی اور یہ صحابی ان کی صحابیت مقبولیت یقینی ہے۔حضور انور کی یہ سرزنش فرمانا ہم لوگوں کی تعلیم کے لیے ہے گندم کھالینے سے آدم علیہ الالسلام نبی ہی رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4011