Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4019

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دابَّةً مِنْ فَيءِ الْمُسْلِمِينَ حتّٰى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسلمين حتّٰى إِذَا أَخْلَقَهٗ رَدَّهٗ فِيهِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن رويفع بن ثابت أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يركب دابة من فيء المسلمين حتى إذا أعجفها ردها فيه، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يلبس ثوبا من فيء المسلمين حتى إذا أخلقه رده فيه". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رویفع ابن ثابت سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جوتعالٰی اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کسی گھوڑے پر سوار نہ ہو کہ جب اسے دبلا کردے تو غنیمت میں لوٹا دے ۲؎اور جوشخص ایمان رکھتا ہواور آخری دن پر تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کردے تو غنیمت میں لوٹا دے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،انصاری ہیں،امیر معاویہ کی طرف سے طرابلس کے حاکم رہے، ۴۶ھ؁ ∞ میں امیر معاویہ کے حکم سے افریقہ فتح فرمایا، ۴۷ھ؁ ∞ میں فتح افریقہ ہوا، ۵۴ھ؁ ∞ شام میں وفات پائی۔(اشعہ)
۲
؎یعنی کوئی غازی تقسیم سے پہلے مال غنیمت کا گھوڑا بلا ضرورت استعمال نہ کرے کہ ا سے دبلا کرکے پھر واپس غنیمت میں رکھ دے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایسے گھوڑے پر جہاد کرنا جائز ہے کہ یہ ضرورت استعمال ہے اور بلا ضرورت بھی،اگر کچھ سواری کرلے جس سے گھوڑا کمزور نہ ہوجائے جائز ہے ۔(اشعہ)
۳
؎یعنی غنیمت کے مال کا کپڑا قبل تقسیم بلاضرورت استعمال نہ کرو اور ایسی حرکت نہ کرو کہ کپڑا پرانا کرکے پھاڑکر پھر واپس کردو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4019