Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4022

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْقَاسِم مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ الْجَزُوْرَ فِي الغَزْوِ وَلَا نُقَسِّمُهٗ، حتّٰى إِذَا كُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَى رِحَالِنَا وأخْرِجَتُنا مِنْهُ مَمْلُوْءَةٌ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن القاسم مولى عبد الرحمن عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: كنا نأكل الجزور في الغزو ولا نقسمه، حتى إذا كنا لنرجع إلى رحالنا وأخرجتنا منه مملوءة. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قاسم مولیٰ عبدالرحمن سے ۱؎وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے بعض صحابہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ میں ایک اونٹ کھا لیا کرتے تھے اسے تقسیم نہ کرتے تھے حتی کہ جب ہم اپنی منزل کی طرف لوٹتے اس طرح کہ ہماری خورجیاں اس سے بھری ہوتیں۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎قاسم تابعی ہیں،شامی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبدالرحمن،آپ کی ملاقات چالیس صحابہ کرام سے ہے، ۱۲۲ھ؁ ∞ ایک سو بائیس ہجری میں وفات پائی،آپ کی اکثر روایات حضرت علی سلمان،معاویہ اور عمرو بن عبسہ سے ہیں۔(اشعہ) آپ کے مولیٰ کا نام عبدالرحمن ابن خالد ہے وہ تابعی ہیں،ان کی ملاقات حضرت ابو امامہ سے ہے۔
۲
؎اخرجہجمعخرجکی خ کے پیش سے بمعنی گون،بوری،توبڑے اور منزل سے مراد اپنا وطن کا گھر نہیں بلکہ بحالت سفر خیمہ مراد ہے جہاں مسافر عارضی ٹھہرتے ہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔مطلب یہ ہے کہ ہم خیمے والے مسافروں میں سے ایک آدمی اس اونٹ کے گوشت سے بوری بھر لاتا تھا اپنے سارے خیمہ والوں کا حصہ۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ غازی بچا ہوا کھانا چارہ وغیرہ غنیمت میں واپس کرے۔فقہا کا یہ فتویٰ اس حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4022