Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4033

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهٖ: لَا يَتَّبِعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوْتًا وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوْفَهَا، وَلَا رَجُلٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا، فَغَزَا فَدَنًا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذٰلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: إِنَّكِ مَأْمُوْرَةٌ وَأَنَا مَأْمُوْرٌ، اَللّٰهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا، فَحُبِسَتْ حَتّٰى فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْغَنَائِمَ فَجَاءَتْ -يَعْنِي النَّارَ- لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُوْلًا، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهٖ فَقَالَ: فِيكُمُ الغُلُوْلُ فَجَاؤوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعَهَا، فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا". زَادَ فِي رِوَايَةٍ: "فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا، ثُمَّ أَحَلَّ اللّٰهُ لَنَا الْغَنَائِمَ، رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "غزا نبي من الأنبياء فقال لقومه: لا يتبعني رجل ملك بضع امرأة وهو يريد أن يبني بها ولما يبن بها، ولا أحد بنى بيوتا ولم يرفع سقوفها، ولا رجل اشترى غنما أو خلفات وهو ينتظر ولادها، فغزا فدنا من القرية صلاة العصر أو قريبا من ذلك، فقال للشمس: إنك مأمورة وأنا مأمور، اللهم احبسها علينا، فحبست حتى فتح الله عليه الغنائم فجاءت -يعني النار- لتأكلها فلم تطعمها فقال: إن فيكم غلولا، فليبايعني من كل قبيلة رجل، فلزقت يد رجل بيده فقال: فيكم الغلول فجاؤوا برأس مثل رأس بقرة من الذهب فوضعها، فجاءت النار فأكلتها". زاد في رواية: "فلم تحل الغنائم لأحد قبلنا، ثم أحل الله لنا الغنائم، رأى ضعفنا وعجزنا فأحلها لنا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کیا ۱؎تو اپنی قوم سے فرمایا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جوکسی عورت کے بضع کا مالک ہو اور رخصتی کرنا چاہتا ہے ابھی تک کی نہیں ہے ۲؎اور نہ وہ جائے جس نے مکانات بنائے ہیں اور ان کی چھتیں تیار نہ کی ہیں۳؎اور نہ وہ شخص جائے جس نے بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان کے بیاہنے کا منتظر ہے۴؎چنانچہ انہوں نے جہاد کیا تو بستی سے نماز عصر یا اس کے قریب ہوئے تو انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی حکم کے ماتحت ہے اور میں بھی الٰہی اسے ہم پر روک دے ۵؎چنانچہ سورج روک دیا گیا حتی کہنے انہیں فتح دی ۶؎پھر غنیمتیں جمع فرمائیں تو وہ یعنی آگ کھانے کے لیے آئی مگر انہیں کھایا نہیں ۷؎فرمایا کہ ضرور تم میں خیانت ہے ۸؎ہر قبیلہ سے ایک ایک شخص مجھ سے بیعت کرے چنانچہ ایک آدمی کا ہاتھ ان ہی سے چمٹ گیا تو فرمایا تم لوگوں میں خیانت ہے ۹؎پھر وہ سونے کا سر لائے جو گائے کے سر کی طرح تھا۱۰؎اسے رکھ دیا پھر آگ آئی اسے کھالیا ۱۱؎مسلم کی روایت میں ہے یہ زیادتی کی کہ ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں پھرنے ہمارے لیے غنیمتیں حلال کردیں ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو انہیں ہمارے لیے حلال فرمایا ۱۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نبی سے مراد حضرت یوشع علیہ السلام ہیں یعنی موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور غزوہ سے مراد بیت المقدس پر جہاد،یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوا۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎یعنی جس کا نکاح ہوچکا ہے ابھی رخصت نہیں ہوئی ہے اس کی تیاری میں ہے۔اہل عرب زفاف کے وقت خیمہ وغیرہ بناتے تھے۔ اس میں زفاف کرتے تھے اس لیے زفاف کو بنا رکھتے تھے۔(اشعہ)
۳
؎یعنی مکان بنانے میں مشغول ہے ابھی عمارت نامکمل ہے اس کی تکمیل کررہا ہے۔
۴
؎یعنی جس کی بکریاں یا اونٹنیاں گابھن ہیں اسے ان کے بچے دیکھنے دودھ پینے کا بڑا انتظار ہے۔مقصد یہ ہے کہ میرے ساتھ جہاد میں فارغ البال جائے جس کا دل دنیا میں لگا ہے وہ نہ جائے تاکہ اس عبادت میں دھیان نہ بٹے جیسے آج پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت لےکر نماز پڑھنا ممنوع ہے کہ اس سے نماز میں دل نہ لگے گا۔
۵
؎یعنی اے سورج تجھے رفتار کا حکم الٰہی ہے اور مجھے جہاد کا حکم ہے اگر تو ابھی ڈوب گیا اور میں بیت المقدس فتح نہ کرسکا تو ہفتہ کا دن شروع ہوجائے گا جس میں جہاد کرنا قتال کرنا حرام ہے پھر کفار کو کافی مہلت مل جائے گی اور بیت المقدس فتح کرنا مشکل ہوجائے گا خدایا تو سورج کو روک دے جب یہ بیت المقدس فتح کرلوں تب غروب ہو۔معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام چاند سورج سے بھی کلام فرماتے ہیں اور وہ ان سے گفتگو اور ان کی اطاعت کرتے ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر
نطق آب ونطق خاک ونطق گل ہست محسوس حواس اہل دل
فلسفی گو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است
یہ جہاد جمعہ کے دن ہوا تھا۔اس دین میں ہفتہ کے دن جہاد بھی ممنوع تھا۔(مرقات)
۶
؎بحکم الٰہی سورج ٹھہرگیا جب بیت المقدس فتح ہوگیا تب ڈوبا،یہ حضرت یوشع علیہ السلام کا معجزہ ہوا۔خیال رہے کہ یوشع علیہ السلام کے سوا کسی نبی کے لیے سورج روکا نہیں گیا ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے ایک بار سورج روکا گیا اور ایک بار لوٹا یا گیا۔ چنانچہ بعد معراج جب کفار مکہ نے حضور سے پوچھا کہ آپ نے ہمارا فلاں قافلہ راہ میں دیکھا ہوگا،فرمایا ہاں بولے مکہ کب پہنچے گا فرمایا بدھ کی صبح کو،قافلہ کو واپسی میں کچھ دیر ہوگئی تو بدھ کے دن سورج کو روک لیا گیا حتی کہ جب قافلہ مکہ معظمہ پہنچا تب سورج طلوع ہوا اور غزوہ خیبر کے موقع پر مقام صہباء میں بعد عصر حضور نے حضرت علی کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرمایا تھا،جناب علی نے نماز عصر نہ پڑھی سورج ڈوب گیا تب حضور کی دعا سے سورج واپس ہوا،حضرت علی نے نماز عصر پڑھی پھر ڈوبا۔ابن جوزی نے ان احادیث کو موضوع کہا مگر طحاوی نے مشکل الحدیث میں قاضی عیاض نے شفاء شریف میں انہیں صحیح کہا۔ابن المنذر ابن شاہین نے ان کی تصحیح کی،طبرانی نے معجم میں بہ سند حسن حضرت جابر سے سورج روک لیے جانے کی حدیث نقل فرمائی ہے۔بہرحال آفتاب کا رکنا حضرت یوشع علیہ السلام کے لیے ہوا اور رکنا اور واپس لوٹنا ہمارے حضور کے لیے ہوا۔وہ جو حدیث میں ہے کہ یوشع علیہ السلام کے سوا کسی کے لیے سورج نہ رکا اس سے مراد حضور سے پہلے کے نبی ہیں۔(مرقات،اشعہ)فقیر نے مقام صہباء کی زیارت کی ہے جہاں سورج لوٹایا گیا تھا،یہ جگہ خیبر سے قریبًا ایک میل دور جانب مدینہ منورہ ہے۔عام لوگ زیارت کرتے ہیں،اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا ہے۔شعر
اشارہ سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
گئے ہوئے دن کوعصر کیا یہ تاب و تواں تمہارےلیے
۷
؎اس زمانہ میں غنیمت کا مال جمع کرکے کسی پہاڑی یا میدان میں رکھ دیا جاتا تھا غیبی آگ آکر اسے جلاجاتی تھی اس لیے یہ کیا گیا۔
۸
؎اس لیے آگ آئی تو تھی مگر اسے جلایا نہیں۔یہاں کھانے سے مراد جلانا ہے گزشتہ دینوں میں یہ مال غنیمت اور قربانیوں کے گوشت غیبی آگ جلایا کرتی تھی۔
۹
؎یہ بھی یوشع علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ جس میں خیانت تھی اس کے سردار کا ہاتھ یوشع علیہ السلام کے ہاتھ سے چمٹ گیا جس سے خیانت پکڑی گئی۔
۱۰
؎یعنی اس غنیمت کے مال میں سونے کی گائے کا سر جو عام گایوں کے سر کے برابر تھا اس کی خیانت کی گئی جو اب حاضر کی گئی۔
۱۱
؎اس زمانہ میں غیبی آگ کا جلا جانا قبولیت کی علامت تھی اور نہ جلانا مردودیت کی علامت تھی خیانت والی غنیمت مردود مانی جاتی تھی۔ہابیل و قابیل نے بھی اپنی قربانیاں پہاڑ پر رکھی تھیں ہابیل کی قربانی کو آگ جلاگئی اور قابیل کی قربانی ویسی ہی پڑی رہی۔
۱۲
؎یعنی ہماری امت عمومًا کمزور اور غریب ہوگی لہذا اس کے لیے مال غنیمت حلال فرمادیا گیا کہ اس مال کے ذریعہ جہاد میں قوت حاصل کریں،یہ رب تعالٰی کی خاص مہربانی ہے۔اسی طرح قربانی کا گوشت بھی اس امت کے لیے حلال کردیا گیا کہ قربانی عبادت بھی ہے اور مسلمانوں کی خوراک بھی ہے،یہ ہے خاص کرم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4033