Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4026

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَم، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ: "وَلَا يَحِلُّ لِي مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هٰذَا إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُوْدٌ فِيكُمْ" رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عمرو بن عبسة قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بعير من المغنم، فلما سلم أخذ وبرة من جنب البعير ثم قال: "ولا يحل لي من غنائمكم مثل هذا إلا الخمس، والخمس مردود فيكم" رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمت کے کچھ اونٹوں کی طرف نماز پڑھائی ۱؎پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے کروٹ سے بال لیا پھر فرمایا کہ تمہاری غنیمتوں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوا خمس کے اور خمس بھی تم میں ہی لوٹایا جاتا ہے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اس اونٹ کو سترہ بناکر اس کے پیچھے نماز پڑھائی۔معلوم ہوا کہ بیٹھے ہوئے جانور یوں ہی بیٹھے ہوئے انسان کی پیٹھ کو سترہ بنانا درست ہے۔
۲
؎یہ واقعہ دوسرا ہے اور جو پہلے مذکور ہوا اور واقعہ تھا یہ ہی ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4026