Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3998

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ عَلٰى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهٗ:كَرْكَرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ فِي النَّارِ" فَذَهَبُوْا يَنْظُرُوْنَ فَوَجَدُوْا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: كان على ثقل النبي صلى الله عليه وسلم رجل يقال له:كركرة، فمات، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هو في النار" فذهبوا ينظرون فوجدوا عباءة قد غلها. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامان پر ایک شخص تھا جسے کرکرہ کہا جاتا تھا ۱؎وہ مرگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ آگ میں ہے تو لوگ تلاش کرنے لگے ایک کمبل پایا جس کی اس نے خیانت کرلی تھی ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مغرب میں ہے کہ ہر نفیس و قیمتی سامان کوثقلکہا جاتا ہے۔کرکرہیا تو دونوں کاف کے فتحہ سے ہے یا کسرہ سے یا پہلے کاف کے فتحہ سے دوسرے کے کسرہ سے۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎یہ غلول کیا ہوا کمبل اس کے اس عذاب کا سبب بن گیا۔اس کی تحقیق ابھی ہوچکی کہ یہ عمل ان صحابی کی عدالت کے خلاف نہیں۔ تمام صحابہ عادل ہیں معصوم یا محفوظ نہیں۔حضور کی نگاہ عالی کے قربان کہ اس جہان میں بیٹھ کر اس جہان کی خبر دے رہے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3998