Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3997

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا يُقَالُ لَهٗ: مِدْعَمٌ، فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلًا لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَصَابَهٗ سَهْمٌ عَائِرٌ فَقَتَلَهٗ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَلَّا وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِهٖ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِكَ النَّاسُ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: أهدى رجل لرسول الله صلى الله عليه وسلم غلاما يقال له: مدعم، فبينما مدعم يحط رحلا لرسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أصابه سهم عائر فقتله، فقال الناس: هنيئا له الجنة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كلا والذي نفسي بيده إن الشملة التي أخذها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا". فلما سمع ذلك الناس جاء رجل بشراك أو شراكين إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "شراك من نار أو شراكان من نار". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک غلام پیش کیا جسے مدعم کہا جاتا تھا ۱؎تو اس حالت میں کہ مدعم رسولصلی اللہ علیہ و سلم کا سامان اتار رہا تھا کہ اسے غائبانہ ۲؎تیر لگا جس نے اسے قتل کردیا تو لوگ بولے مبارک ہو اسے جنت ۳؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن غنیمت میں سے تقسیم ہونے سے پہلے لے لی تھی وہ اس پر آگ بھڑکا رہی ہے۴؎جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک یا دو تسمے لایا تو فرمایا کہ یہ تسمہ آگ کا ہے دو تسمے آگ کے ہیں ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مدعممیم کے کسرہ دال کے سکون سے یہ حضرت رفاعہ ابن زید ابن وہب خدامی کے غلام حبشی تھے جنہیں رفاعہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ہدیۃً پیش کردیا تھا،پیش کرنے والے حضرت رفاعہ ابن زید تھے۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎کسی منزل پر سفرجہاد میں یہ خدمات انجام دے رہے تھے۔
۳
؎کیونکہ مدعم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے خادم خاص رہے اور اب شہید ہوئے یہ خدمت اور شہادت یقینًا جنت کا ذریعہ ہے۔
۴
؎یعنی مدعم نے ایک غلطی کی تھی کہ غزوہ خیبر کی غنیمت میں سے ایک چادر بغیر تقسیم لے لی تھی یہ ہوئی خیانت کیونکہ غنیمت کا مال تقسیم سے پہلے غازیوں کا مشترکہ ہوتا ہے اس کا مالک کوئی شخص نہیں بن سکتا بعد تقسیم ملکیت میں آتا ہے اس لیے اس وقت تکلیف میں ہے ابھی جنت میں نہیں پہنچا۔مرقات میں ہے کہ بعض روایات میں یوں ہے کہ میں اسے آگ میں دیکھ رہا ہوں۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سب کے کھلے چھپے اعمال کو ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ چادر لینا ایک چھپا ہوا عمل تھا جو حضور کی نگاہ میں تھا۔دوسرے یہ کہ حضور انور دنیا میں رہ کر آخرت اور وہاں کے حالات کو دیکھ رہے ہیں کہ فرماتے ہیں مدعم آگ میں ہے۔تیسرے یہ کہ شہادت سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں مگر حق العبد معاف نہیں ہوتا،دیکھو مدعم شہید ہوگئے مگر حق العبد کی وجہ سے گرفتار ہوگئے۔خیال رہے کہ مدعم کا وہ چادر لے لینا یا تو مسئلہ غنیمت سے بے خبری کی وجہ سے تھا یا گناہ صغیرہ تھا لہذا اس سے ان کی عدالت میں فرق نہیں آیا،سارے صحابہ عادل ہیں،انہوں نے چادر کو بہت معمولی چیز سمجھا اس کی اہمیت سے خبردار نہ ہوئے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے کہ یہ سن کر بعض صحابہ تسمے لائے لہذا اس روایت کی بنا پر صحابہ پر طعن نہ کیا جائے۔خیال رہے کہ مدعم کو یہ عذاب عارضی تھا جو اس وقت ہو رہا تھا۔
۵
؎یعنی اگر تم یہ تسمے حاضر نہ کردیتے تو یہ بھی تمہاری موت کے بعد تمہارے لیے آگ بن جاتے ان حضرات کے وہم وگمان میں بھی ان کی اتنی اہمیت نہ تھی۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اگرچہ ہر شخص کے ہر کھلے چھپے عمل سے واقف ہیں مگر آپ پر یہ لازم نہیں کہ ہر ایک کی خفیہ عمل پر پکڑ فرمائیں کہ اس میں مسلمانوں کی عیب جوئی بھی ہے اور پردہ دری بھی اسی لیے نہ تو حضور نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ تسمے حاضر کرو نہ مدعم کو حکم دیا کہ وہ چادر حاضر کرو لہذا حدیث واضح ہے،یہ بھی خیال رہے کہ مدعم کی شہادت قبول تھی مگر فائدہ شہادت کا ظہور کچھ عرصہ بعد ہوا۔اولًا چادر کی غلول کی سزا پہنچ گئی۔شہادت کے لیے ضروری نہیں کہ شہید گناہوں قرض وغیرہ حقوق سے پاک وصاف ہو تب شہید ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3997