Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4025

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: دَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهٖ ثُمَّ قَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهٗ لَيْسَ لِي مِنْ هٰذَا الْفَيْءِ شَيْءٌ وَلَا هٰذَا -وَرَفَعَ إِصْبَعَهٗ- إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُس مَرْدُوْدٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ" فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهٖ كُبَّةٌ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: أَخَذْتُ هٰذِهٖ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْدَعَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطّلِبِ فَهُوَ لَكَ". فَقَالَ: أمّا إِذا بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا ونبَذَهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: دنا النبي صلى الله عليه وسلم من بعير فأخذ وبرة من سنامه ثم قال: "يا أيها الناس! إنه ليس لي من هذا الفيء شيء ولا هذا -ورفع إصبعه- إلا الخمس، والخمس مردود عليكم، فأدوا الخياط والمخيط" فقام رجل في يده كبة من شعر فقال: أخذت هذه لأصلح بها بردعة، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "أما ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لك". فقال: أما إذا بلغت ما أرى فلا أرب لي فيها ونبذها. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ کے قریب ہوئے تو اس کے کوہان سے ایک بال لیا ۱؎پھر فرمایا اے لوگو اس فئ میں سے میرے لیے کچھ نہیں اور نہ یہ بال ۲؎اور اپنی انگلی شریف اٹھائی سوائے خمس کے۳؎اورخمس بھی تم پر ہی لوٹ جاتا ہے۴؎لہذا سوئی دھاگہ بھی ادا کردو تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کے ہاتھ میں بالوں کی بنڈلی تھی بولا میں نے یہ لیا ہے تاکہ اس سے کمبل کو درست کروں ۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو میری یا عبدالمطلب کی اولاد کی ہو تو وہ تیرے لیے ہے ۶؎وہ بولا کہ یہ اس حد تک پہنچی ہوئی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎دبرہخاص اونٹ کے بال کو کہتے ہیں اور شعر ہر بال کو کہاتا جاتا ہے،سنام اونٹ کی پیٹھ میں ابھری ہوئی ہڈی جسے کوہان کہاجاتا ہے۔
۲
؎یعنی حقیر سے حقیر اور معمولی سے معمولی چیز بھی غنیمت سے میرا حصہ نہیں،اس سے صفی مستثنٰی ہے۔صفی وہ چیز ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم پسند فرمالیں۔ جیسے ابھی ذوالفقار کا واقعہ گزرا کہ وہ صفی تھی یا غزوہ خیبر میں بی بی صفیہ بنت حیی ابن اخطب کہ یہ اس صفی میں سے تھیں اس صفی میں صدہا حکمتیں ہوتی تھیں مثلا بی بی صفیہ یہود کے سردار کی بیٹی تھیں ان کا حضور انور کے نکاح میں ہونا ہی موزوں تھا یا ذوالفقار کفار کے سردار کی تلوارحضور انور کے ہاتھ اس کا ہونا کفار کے زیادہ جلنے کا باعث تھا،بہرحال یہاں قانون کا ذکر ہے اور صفی کا اختیار فرمانا دائمی قانون نہ تھا کبھی اتفاقیہ تھا۔
۳
؎اشارہ کے لیے صرف ایک انگلی اٹھائی یعنی صرف ایک خمس ہی ہمارا حق ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔
۴
؎یعنی وہ بھی تمہاری مصلحتوں میں ہی خرچ ہوتا ہے کہ اس خمس سے ہم جنگی سامان گھوڑے تیر وغیرہ خریدتے ہیں موقعہ بموقعہ مساکین کی مدد فرماتے ہیں۔
۵
؎یعنی یہ اونی دھاگہ کی گچھی ہے۔مقصود صرف یہ ہے کہ میرا کمبل پھٹا یا ادھڑا ہوا ہے اسے درست کرنا چاہتا ہوں اگراجازت ہو تو لے لوں۔
۶
؎یعنی اگر یہ دھاگہ کی گچھی میرے خمس میں آگئی تو میری طرف سے تجھے اجازت ہوگی اور اگر میرے کسی عزیز مطلبی کو غنیمت کے حصے سے مل گئی تو میں ان کی طرف سے تجھے اجازت دیتا ہوں لیکن اگر کسی اور کے حصہ میں پہنچ گئی تو پھر تو جانے اور وہ مالک جانے۔
۷
؎یعنی جب اس معمولی چیز میں ایسی پابندی اور ایسی تنگی ہے تو مجھے اس کی ضرورت نہیں کہ پہلے تو کسی کی ملکیت میں آنے کا انتظارکروں پھر مالک سے خوشامد کرکے مانگوں یہ کہا اور گچھی وہاں ہی رکھ دی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈر گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4025