Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4030

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: أَعْطَى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُم رَجُلًا وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ وَاللّٰهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أوْ مُسْلِمًا" ذَكَرَ ..سَعْدٌ ثَلَاثًا وَأَجَابَهٗ بِمِثْلِ ذٰلِكَ، ثُمَّ قَالَ: "إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهٗ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلٰى وَجْهِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَنَرَى: أَنَّ الإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ، وَالإِيمَانُ الْعَمَلُ الصَّالحُ.

وعن سعد بن أبي وقاص قال: أعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم رهطا وأنا جالس، فترك رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم رجلا وهو أعجبهم إلي، فقمت، فقلت: ما لك عن فلان؟ والله إني لأراه مؤمنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أو مسلما" ذكر ..سعد ثلاثا وأجابه بمثل ذلك، ثم قال: "إني لأعطي الرجل وغيره أحب إلي منه خشية أن يكب في النار على وجهه". متفق عليه. وفي رواية لهما: قال الزهري: فنرى: أن الإسلام الكلمة، والإيمان العمل الصالح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جماعت کو عطیہ فرمایا میں بیٹھا ہوا تھا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان میں سے ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جو ان سب میں مجھے زیادہ پسندیدہ تھا ۱؎میں اٹھا اور میں نے عرض کیا فلاں کے متعلق کیا رائے عالی ہے میں تو اسے مؤمن سمجھتا ہوں۲؎تب حضور نے فرمایا بلکہ مسلم کہو۳؎سعد نے یہ تین بار عرض کیا اور حضور نے اسی طرح جواب دیا پھر فرمایا کہ میں کبھی کسی شخص کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص مجھے زیادہ پیارا ہوتا ہے ۴؎اس خوف سے کہ اپنے منہ کے بل آگ میں گرایا جائے ۵؎(مسلم،بخاری)اور ان کی ایک روایت میں ہے زہری نے فرمایا ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کلمہ طیبہ ہے اور ایمان نیک عمل ہے ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور نے ایسے شخص کو عطیہ نہ دیا جو ایمان و اعمال میں مجھے بہت پسندیدہ تھا۔
۲
؎یعنی جہاں تک مجھے علم ہے یہ صاحب مؤمن کامل اور عالم تام ہیں،ایمان و تقویٰ دونوں کے جامع ہیں۔
۳
؎اس فرمان عالی میں ان صاحب کے ایمان کی نفی نہیں بلکہ حضرت سعدکو تعلیم ہے کہ کسی کے متعلق اس کے ایمان کی گواہی قطعی نہ دو کہ ایمان دلی تصدیق کا نام ہے جس پرتعالٰی ہی خبردار ہے۔ اسلام ظاہر کا نام ہے تم اس کی گواہی دے سکتے ہو۔خیال رہے کہ کبھی ایمان و اسلام ہم معنی آتے ہیں اورکبھی ان میں فرق کیا جاتا ہے کہ دلی عقیدوں کا نام ایمان ہوتا ہے اور ظاہری اطاعت کا نام اسلام یہاں دوسرے معنی مراد ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"قُلۡ لَّمْ تُؤْمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسْلَمْنَا"اور فرماتاہے:"فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلْجَبِیۡنِ"اور فرماتاہے:"اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسْلِمۡ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"ان آیات میں اسلام سے مراد ظاہر اطاعت و فرمانبرداری ہے۔
۴
؎یعنی ہمارا کسی کو کم دینا یانہ دینا اس کی علامت نہیں کہ ہم اس سے ناراض ہیں یا اس کو مسلمان نہیں سمجھتے اورکسی کو زیادہ دینا اس کی علامت نہیں کہ ہم اس سے راضی ہیں اسے مؤمن کامل سمجھتے ہیں بلکہ کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے کہ مؤمن کامل کو کم دیتے ہیں یا کچھ نہیں دیتے اور مذبذب کو زیادہ عطا فرماتے ہیں۔
۵
؎یعنی یہ عطا فضائل کی وجہ سے نہیں بلکہ ضعیف الایمان لوگوں کو ہم عطائیں دیتے ہیں کہ اگر ان کو نہ دیں تو خطرہ ہے کہ وہ پھر کفر کی طرف لوٹ جائیں اور دوزخ میں گر جائیں۔پختہ مؤمنین پر ہم کو اعتماد ہے کہ انہیں مال ملے یا نہ ملے وہ مؤمن ہی رہیں گے ان کو دینے کا اہتمام نہیں فرماتے انہیں نہ دینا ان کی پختگی ایمان کی وجہ سے ہے یہ ہی سنت الہیہ ہے۔بار ہا مقبول بندوں پرمصیبتیں بھیج دیتا ہے یا انہیں کم عطا فرماتا ہے کیونکہ وہ بہرحال مؤمن رہیں گے کچھ ملے یا نہ ملے۔کچی کھیتی کو پانی بہت دیا جاتا ہے اس کی رکھوالی زیادہ کی جاتی ہے کہ اس کی جڑیں مضبوط نہیں پانی نہ ملنے پر خشک ہوجائے گی،مضبوط درختوں کی زیادہ پرواہ نہیں کی جاتی کہ اس کی جڑیں پختہ ہیں پانی نہ ملنے پربھی ہرے بھرے رہتے ہیں۔
۶
؎یعنی سرکار عالی کےاو مسلمًافرمانے سے معلوم ہوا کہ ایمان و اسلام میں فرق ہے۔اس فرق میں کئی احتمال ہیں: ایک یہ کہ صرف کلمہ طیبہ پڑھ لینا اسلام ہے اور ساتھ ہی نیک اعمال بھی کرنا ایمان اور دونوں میں اوربھی فرق کیے گئے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4030