Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4018

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَفَّلَ سَيْفَهٗ ذَا الفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ: وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ.

وعن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم تنفل سيفه ذا الفقار يوم بدر. رواه ابن ماجه، وزاد الترمذي: وهو الذي رأى فيه الرؤيا يوم أحد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن تلوار ذوالفقار خود بطور نفل قبول فرمائی ۱؎ابن ماجہ، ترمذی نے یہ زیادتی بھی کی کہ یہ وہ ہی تلوار ہے جس کے متعلق حضور نے احد کے دن خواب دیکھا تھا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎تنفلبنا ہےنفلسے،اس کے معنی ہیں نفل یعنی زیادتی قبول فرمانا لے لینا۔تنفیلباب تفعیل کے معنی ہوتے ہیں دوسرے کو نفل دینا یعنی حضور اقدس نے خود یہ تلوار قبول فرمائی اسے شریعت میں صفی کہتے ہیں یعنی حضور انور کا پسند فرمایا ہوا مال۔فقارجمع ہےفقرہکی بمعنی جوڑ اس لیے عبارت کے جملے کو فقرہ کہا جاتا ہے، چونکہ اس تلوار میں جوڑ تھے، پرت پرت جیسے ہاکی کی لکڑی یا اس میں منکے موتی ایسے جڑے ہوئے تھے جیسے پیٹھ کی ہڈی اس لیے اسے ذوالفقار یعنی جوڑوں والی تلوار کہا جاتا تھا۔ یہ تلوار عنبہ ابن حجاج کافر کی تھی جو بدر میں مارا گیا پھر حضور انور کے پاس رہی،حضور انور اس تلوار سے جہاد فرماتے تھے،کچھ عرصہ بعد حضور نے یہ ذوالفقار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمادی۔(اشعہ و مرقات)امام ابوجعفر محمد ابن علی باقر سے روایت ہے کہ بدر کے دن ایک فرشتہ نے پکارا تھالاسیف الاذوالفقار لافتی الا علی۔(مرقات)اب لوگوں نے اسے اس طرح بنالیا۔شعر
شاہ مرداں شیر یزداں قوت پروردگار
لا فتی الا علی لاسیف الا ذو الفقار۲؎حضور انور نے غزوہ احد سے پہلے خواب دیکھی تھی کہ ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے ہم نے ہلائی تو اس کا درمیانہ حصہ ٹوٹ گیا دوبارہ ہلائی تو پہلے سے بھی اچھی ہوگئی وہ خواب اسی تلوار کے متعلق تھی کہ ٹوٹی اور جڑ گئی۔ تعبیر دی تھی کہ احد میں مسلمانوں کو تکلیف ہوگی،پھر پہلے سے بھی اچھے ہوجائیں گے،ایسا ہی ہوا کہ احد میں تکلیف پائی پھر ہر میدان جیتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4018