Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4012

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً، أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، فَيجِيئُوْنَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهٗ وَيُقَسِّمُهٗ، فَجَاءَ رَجُل يَوْمًا بَعْدَ ذٰلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، هٰذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ، قَالَ: "أَسَمِعْتَ بِلَالًا نادَى ثَلَاثًا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهٖ؟ " فَاعْتَذَرَ قَالَ : "كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهٖ يَوْمَ القِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهٗ عَنْكَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أصاب غنيمة، أمر بلالا فنادى في الناس، فيجيئون بغنائمهم فيخمسه ويقسمه، فجاء رجل يوما بعد ذلك بزمام من شعر، فقال: يا رسول الله، هذا فيما كنا أصبناه من الغنيمة، قال: "أسمعت بلالا نادى ثلاثا؟ " قال: نعم، قال: "فما منعك أن تجيء به؟ " فاعتذر قال : "كن أنت تجيء به يوم القيامة فلن أقبله عنك". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب غنیمت حاصل فرماتے تو بلال کو حکم دیتے وہ لوگوں میں اعلان کرتے لوگ اپنی اپنی غنیمت لے آتے آپ خمس نکال لیتے اور اسے تقسیم فرمادیتے ۱؎ایک دن ایک شخص بالوں کی لگام اس کے بعد لایا۲؎بولا یا رسول اللہ یہ بھی اس ہی غنیمت سے ہے جو ہم نے حاصل کی تھی تو فرمایا کہ کیا تم نے نہیں سنا تھا کہ بلال نے تین آوازیں دیں تھیں بولا ہاں فرمایا تو تجھے اس کے لانے سے کس نے روکا وہ عذرکرنے لگا۳؎فرمایا تم یوں ہی رہوکہ اسے قیامت کے دن لاؤ گے۴؎میں تم سے ہرگز قبول نہ کروں گا۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی صحابہ کرام فتح سے فارغ ہوکر کفار کے چھوڑے ہوئے مالوں پر قبضہ کرلیتے تھے،پھر یہ مقبوضہ مال دارالاسلام میں لے آتے تھے،پھر حضرت بلال اعلان فرماتے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم حکم فرما رہے ہیں کہ جس کے پاس جو مال غنیمت ہو وہ حاضر کرو۔چنانچہ سب لوگ حضور کے پاس مال جمع کردیتے پھر حضور یہ عمل فرماتے تھے۔
۲
؎یعنی مال غنیمت جمع ہوچکنے خمس نکالنے تقسیم کردینے کے بعدلایا۔
۳
؎یعنی اس نے کوئی ایسا عذر کیا جو قابل سماع نہ تھا اس طرح کہ کوئی بہانہ بنایا شرمندگی مٹانے کے لیے مگر خبیروعلیم کے سامنے کیا چلے۔
مصرع کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
۴
؎یعنی اب تم اسے اپنے پاس ہی رکھو تم ہی استعمال کرو۔ یہ فرمان عالی اظہار ناراضی کے لیے ہے انہیں مالک بنادینے کے لیے نہیں اور وہ صاحب اس فرمان عالی سے اس چیز کے مالک نہیں ہوگئے اور انہیں اس کا استعمال جائز نہ ہوگیا۔
۵
؎کیونکہ اس لگام میں تمام مجاہدین کا حصہ تھا اور وہ سب حضرات متفرق ہوگئے نہ معلوم یہ کس کے حصہ میں آتی،اب ہم کس سے معافی دلوادیں۔خیال رہے کہ یہ سب کچھ بھی اظہار ناراضی کے لیے ہے۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ اس جرم کی توبہ ہی نہیں ہوسکتی توبہ تو کفر سے بھی ہوجاتی ہے۔خیال رہے کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر غاصب کو توبہ کی توفیق ملے مگر مال مغصوبہ کا مالک نامعلوم ہو یا غائب ہوچکا ہو تو اس کے نام پر یہ چیز خیرات کردی جائے لیکن اگر خیرات کرنے کے بعد پھر مالک آجائے تو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔یہ فقہی مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں کہ یہاں مقصود ہے اظہار غضب اور ہم جیسوں کو غصب سے ڈرانا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4012