Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3991

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: نفَّلَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمُسِ، فَأَصَابَنِي شَارِفٌ، وَالشَّارِفُ: الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .

وعنه قال: نفلنا رسول الله صلى الله عليه وسلم نفلا سوى نصيبنا من الخمس، فأصابني شارف، والشارف: المسن الكبير. متفق عليه .

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ہم کو ہمارے حصہ کے علاوہ خمس سے بطور نفل عطا فرمایا ۱؎تو مجھے الگ شارف اونٹنی ملی اور شارف بڑی عمر رسیدہ اونٹنی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک جہاد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمت سے خمس لیا، اس خمس میں سے ہم لوگوں کو ایک ایک اونٹ زائد دیا بطور نفل۔خیال رہے کہ آج کل فوجی سپاہیوں کی تنخواہ ہوتی ہے غنیمت میں حصہ بالکل نہیں ملتا مگر اس زمانہ میں تنخواہ نہ ہوتی تھی غنیمت کے پانچ حصے کرکے ایک حصہرسول کے نام کا لے لیا جاتا تھا اسے خمس کہتے تھے اور باقی چار حصے غازیوں میں تقسیم ہوجاتے تھے یہاں اس کا ذکر ہے یعنی حضور انور نے یہ نفل ہم لوگوں کو خمس میں سے دیا غازیوں کے حصے سے نہ دیا۔
۲
؎شارفکی یہ تفسیرکسی اور راوی نے کی ہے حضرت ابن عمر کی نہیں۔(مرقات) نفل کے معنی ابھی ذکر کیے گئے،اس سے ہے یہ نفلی نماز و روزہ یعنی فرض سے زیادہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3991