Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3595

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: "لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ وَلا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَالْجَرِينُ فَالْقَطْعُ فِيمَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ. رَوَاهُ مَالِكٌ.

وعن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين المكي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال: "لا قطع في ثمر معلق ولا في حريسة جبل، فإذا آواه المراح والجرين فالقطع فيما بلغ ثمن المجن. رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عبدالرحمان ابن ابی حسین مکی سے ۱؎کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہ تو درخت میں لٹکے ہوئے پھل میں ہاتھ کٹتا ہے اور نہ پہاڑ کے جانوروں میں ۲؎پھر جب اسے طویلہ۳؎اور کھلیان میں جگہ دیدے تو اتنے میں ہاتھ کٹتا ہے جو ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۴؎(مالک)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ قرشی نوفلی ہیں یعنی نوفل ابن عبدمناف کی اولاد سے تابعی ہیں ثقہ ہیں۔
۲
؎کیونکہ پہاڑ محفوظ جگہ نہیں لہذا یہاں سے بکری وغیرہ چرانے میں قطع نہیں اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ جو کوئی اونٹوں کی قطار سے ایک دو اونٹ چرالے تو قطع نہیں کہ یہ اونٹ محفوظ جگہ میں نہیں لیکن اگر اونٹ پر لدی ہوئی بوریوں میں سے غلہ وغیرہ چرا لیا تو ہاتھ کٹے گا کہ بوری دانہ کے لیے محل حفاظت ہے۔
۳
؎مراحمیم کے پیش سے وہ جگہ جہاں اونٹ گائے وغیرہ باندھے جاتے ہیں یعنی طویلہ،بکریوں کے بندھنے کی جگہ کو حربیہ۔
۴
؎یعنی جو جانور طویلہ میں محفوظ کردیا جائے اور جو پھل درخت سے ٹوٹ کر کھلیان میں رکھ دیا جائے پھر اس جانور یا اس خشک پھل کی قیمت دس درہم ہو اس کی چوری میں چور کے ہاتھ کٹیں گے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک جنگل میں جو اونٹوں کی قطار جارہی ہے جس کے آگے یا پیچھے ایک محافظ ہے اس قطار میں سے اونٹ کی چوری سے ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ یہ شخص صرف اس اونٹ کا محافظ ہے جس پر سوار ہے یا جس کی نکیل پکڑ ے چل رہا ہے یا جس کو پیچھے سے ہانک رہا ہے باقی کا محافظ نہیں وہ سب غیر محفوظ ہیں،باقی اماموں کے ہاں جہاں تک اونٹوں کو دیکھ رہا ہے وہاں تک کے اونٹ محفوظ ہیں کہ انکی چوری سے ہاتھ کٹے گا،نیز احناف کے نزدیک پھلوں کے جرین میں آجانے کے معنے یہ ہیں کہ وہ خشک ہوکر چھوارے یا کشمش بن جائیں،چونکہ اب وہ جلد نہ بگڑیں گے لہذا انکی چوری سے ہاتھ کٹے گا۔دوسرے اماموں کے نزدیک جرین میں پہنچ جانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ محفوظ ہو جائیں لہذا اگرچہ وہ تر پھل رہیں ان کی چوری سے ہاتھ کٹ جائے گا،مذہب حنفی قوی ہے کہ سرکار فرماتے ہیںلا قطع فی ثمر ولا کثرپھل جرین میں پہنچ کر بھیثمررہتا ہے پھر اس میں ہاتھ کٹوانا اس حدیث کے خلاف ہے۔
۵
؎یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ عبداابن عبدالرحمن تابعی ہیں انہوں نے صحابی کا ذکر نہ فرمایا اور مرسل حدیث امام ابوحنیفہ کے ہاں مقبول ہے،شوافع کے ہاں ناقابل قبول لہذا شوافع اس حدیث سے دلیل نہیں پکڑ سکتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3595