Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3608

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بِغُلَامٍ لَهُ فَقَالَ: اقْطَعْ يَدَهُ فَإِنَّهُ سَرَقَ مِرْآةً لِامْرَأَتِي، فَقَالَ عُمَرُ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ وَهُوَ خَادِمُكُمْ أَخَذَ مَتَاعَكُمْ. رَوَاهُ مَالِكٌ.

وعن ابن عمر قال: جاء رجل إلى عمر بغلام له فقال: اقطع يده فإنه سرق مرآة لامرأتي، فقال عمر: لا قطع عليه وهو خادمكم أخذ متاعكم. رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس اپنا غلام لایا عرض کیا اس کا ہاتھ کاٹ دیجئے کہ اس نے میری بیوی کا آئینہ چرایا ۱؎تو حضرت عمر نے فرمایا اس پر قطع نہیں ۲؎کہ وہ تمہارا خادم ہے جس نے تمہارا سامان لے لیا ۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎اور اس آئینہ کی قیمت ایک دینار یا اس سے زیادہ ہے۔
۲
؎یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ جس کو گھر میں آنے کی دائمی یا عارضی اجازت ہو اگر وہ گھر سے چوری کرے تو اس پر قطع نہیں کہ اس گھر کا مال اس کے لیے محفوظ نہ رہا،اس پر بہت سے مسائل مبنی ہیں۔
۳
؎خیال رہے کہ اگر غلام مولیٰ کے گھر سے چوری کرے تو احناف کے نزدیک اس کا ہاتھ نہ کٹے گا،بعض آئمہ کے ہاں کٹ جائے گا لیکن اگر مولیٰ غلام کے مال کی چوری کرلے تو بالاجماع مولیٰ کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ غلام کا مال مولیٰ ہی کا ہوتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ اگر غلام مولیٰ کے سواءکسی اور کا مال چوری کرے اگرچہ وہ مولیٰ کا عزیزورشتہ دار ہی ہوں جن کے گھر جانے کی غلام کو عام اجازت نہ ہو تو اس کا ہاتھ کٹ جائے گاکیونکہ ان لوگوں کے مال غلام کے لیے غیر محفوظ نہیں بلکہ محفوظ ہیں اور محفوظ مال کی چوری میں قطع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3608