Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3598

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَرُوِيَ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ": أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ، وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَجَاءَ سَارِقٌ، وَأَخَذَ رِداءَهُ، فَأَخَذَهُ صَفْوَانُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَني بِهِ"

وروي في "شرح السنة": أن صفوان بن أمية قدم المدينة، فنام في المسجد، وتوسد رداءه، فجاء سارق، وأخذ رداءه، فأخذه صفوان، فجاء به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأمر أن تقطع يده فقال صفوان: إني لم أرد هذا، هو عليه صدقة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "فهلا قبل أن تأتيني به"

حدیث ترجمہ

اور شرح سنہ میں روایت ہے کہ صفوان ابن امیہ ۱؎مدینہ منورہ آئے مسجد میں سو گئے اور تکیہ اپنی چادر کا بنا لیا ۲؎ایک چور آیا اس نےآپ کی چادر لے لی اور اسے صفوان نے پکڑ لیا پھر اسے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے حضور نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۳؎تو صفوان بولے کہ میں نے یہ نہ چاہا تھا یہ اس پرصدقہ ہے۴؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کیا ہوتا ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ صفوان ابن امیہ ابن خلف جحمی قرشی ہیں،فتح مکہ کے دن آپ مکہ معظمہ سے بھاگ گئے تھے پھر عمیر ابن وہب نےآپ کے لیے حضور سے امان حاصل کی حضور نے عمیر کو اپنی چادر عطا فرمائی اور فرمایا کہ یہ چادر امان کی علامت ہے پھر انکو حضورکی بارگاہ میں لایا گیا،پھر غزوہ طائف میں ایمان لائے اور ان کا اسلام قبول ہوا،حضور نے ان کو بہت عطاؤں سے نوازا۔
۲
؎یعنی چادر اپنے سر کے نیچے رکھ کر سو گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ حفاظت مال دو قسم کی ہے:جگہ سے حفاظت اور محافظ سے حفاظت لہذا مسجد جنگل یا راستہ میں اگر مال کے پاس محافظ ہے تو وہ مال محفوظ ہے اس کی چوری سے ہاتھ کٹے گا۔
۳
؎یا اس لیے کہ اس نے چوری کا اقرار کرلیا تھا یا اس لیے کہ اس کی چوری کا یہ واقعہ گواہوں سے ثابت ہوگیا تھا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صرف یہ الزام قطع کے لیے کافی نہیں۔
۴
؎یعنی مجھے یہ خبر نہ تھی کہ اس معمولی سی چادر چرانے پر بھی ہاتھ کٹ جائے گا میں اس کے ہاتھ کٹوانے کے لیے اسے نہ لایا تھا صرف ڈانٹ ڈپٹ اور تعزیر کے لیے لایا تھا میں یہ چادر اس کو دیتا ہوں فی سبیل الہذا اب یہ اس کا مالک ہے پھر ہاتھ نہ کٹوایا جائے۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ چوری کا معاملہ حاکم کے پیش ہونے سے پہلے حق العبد ہوتا ہے اگر مال والا معاف کردے اور مقدمہ حاکم کے پیش نہ کرے تو ہاتھ نہ کٹے گا لیکن حاکم کے ہاں مقدمہ پیش ہوجانے پر حق ابن جاتا ہے کہ کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا،یہ ہی قول ہے امام زفر و امام شافعی و احمد کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3598