Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3602

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي السَّارِقِ: "إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ، ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ، ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ، ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في السارق: "إن سرق فاقطعوا يده، ثم إن سرق فاقطعوا رجله، ثم إن سرق فاقطعوا يده، ثم إن سرق فاقطعوا رجله رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے چور کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو اگر پھر چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎ابو سلمہ حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بیٹے ہیں،نہایت متقی ثقہ تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے ہیں باسٹھ سال عمر پائی، ۹۴ھ؁ ∞ یا ۱۰۴ھ؁ ∞ میں وفات پائی۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎یعنی پہلی چوری میں چور کا داہنا ہاتھ کلائی سے کاٹ دو،دوسری چوری میں بایاں پاؤں ٹخنے سے کاٹ دو، تیسری چوری میں دایاں پاؤں کاٹ دو،چوتھی چوری میں بایاں ہاتھ کاٹ دو۔ پہلی دو سزاؤں میں اجماع امت ہے مگر آخری دوسزاؤں میں امام اعظم کا اختلاف ہے،امام اعظم فرماتے ہیں کہ تیسری چوری میں اسے قید کردیا جائے حتی کہ یا مرجائے یا سچی توبہ کے آثار اس میں نمودارہوجائیں،امام اعظم کی دلیل حضرت علی کا فرمان ہےکہ میں شرم کرتا ہوں کہ اس چور کے کھانے کے لیے ہاتھ اور چلنے کے لیے پاؤں بالکل نہ چھوڑوں۔چنانچہ آپ نے تیسری چوری پر قید کیا اورآپ کا یہ عمل تمام صحابہ و تابعین کی موجودگی میں ہوا اور کسی نے اعتراض نہ کیا لہذا اس پر اجماع منعقد ہوگیا،اس حدیث ابو سلمہ کو امام طحاوی نے ضعیف فرمایا لہذا اس حدیث سے استدلال درست نہیں۔ (لمعات،مرقات،اشعہ)نیز چور کے چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دینا ایک قسم کا ہلاک کردینا ہے اور چوری کی سزا ہلاکت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3602