Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3592

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: "لَعَنَ اللّٰهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ البَيْضَةَ فَتُقْطَعَ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعَ يَدُه". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال: "لعن الله السارق يسرق البيضة فتقطع يده، ويسرق الحبل فتقطع يده". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا خدا کی پھٹکار چور پر ۱؎کہ بیضہ(خَود)چرائے تو اس کاہاتھ کاٹا جائے اور رسّی چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ گنہگار فاسق مؤمن پر بغیر نام لیے صرف وصف سے لعنت کرنا درست ہے،نام لے کر لعنت کرنا صرف کفار کے لیے ہے۔(مرقات)
۲
؎یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ ہر چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے اگرچہ ایک دو پیسہ کی ہی چیز چوری ہو کیونکہبیضہکے معنے ہیں انڈا اورحبلکے معنی ہیں رسی اور ظاہر ہے کہ انڈا اور رسی نہ دینار کے ہوتے ہیں نہ تین درہم کے،انڈا ایک دو پیسہ کا رسی ایک دو آنہ کی مگر یہ دلیل نہایت ضعیف ہے کیونکہبیضہخود کو بھی کہتے ہیں یعنی لوہے کی جنگی ٹوپی اور رسی کشتی اور جہاز کی بھی ہوتی ہے جو ریشمی اور قیمتی ہوتی ہے،ہوسکتا ہے کہ یہاں وہ ہی خود اور کشتی کی رسی مراد ہو اور اگر یہ ہی مرغی کا انڈا اور عام رسی مراد ہو تب بھی حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ چور پر خدا کی پھٹکار کہ انڈا رسی کی چوری سے چوری کرنا سیکھے حتی کہ چوری کا عادی ہوکر بڑی چیز چرائے اور اس کا ہاتھ کاٹا جائے اسی لیے یہاں لفظبہنہ ارشاد ہوا لہذا یہ استدلال قوی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3592