Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3604

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَرُوِيَ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" فِي قَطْعِ السَّارِقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اقْطَعُوهُ ثُمَّ احْسِمُوهُ".

وروي في "شرح السنة" في قطع السارق عن النبي صلى الله عليه وسلم : "اقطعوه ثم احسموه".

حدیث ترجمہ

اور شرح سنہ میں چور کے قطع کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کی گئی اس کے ہاتھ کاٹ دو پھر جھلسادو ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎احسمواحسمٌسے بنا بمعنی داغ دینا یا جھلسانا،یہ جھلسانا اس لیے ہے تاکہ جسم کا تمام خون نہ نکل جائے اور چورکی موت واقع نہ ہوجائے۔حسمکی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ لوہا آگ میں سرخ کرکے زخم پر لگادیا جائے۔دوسرے یہ کہ زیتون یا کوئی اور تیل کھولا کر ہاتھ تل دیا جائے،یہ جھلسنا بعض اماموں کے ہاں مستحب ہے،ہمارے ہاں واجب ہے کہ اس میں چور کی جان بچانی ہے،اس کا خرچ دیگر اماموں کے ہاں بیت المال کے ذمہ ہے،ہمارے ہاں خود چور کے ذمہ کہ تیل اور آگ کے لیے ایندھن چور سے منگوایا جائے گا کیونکہ یہ جھلسانا چور کے اپنے نفع کے لیے ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3604