Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3591

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ السَّارِقِ فِي مِجَنِّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر، قال: "قطع النبي صلى الله عليه وسلم يد السارق في مجن ثمنه ثلاثة دراهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چور کے ہاتھ اس ڈھال میں کاٹے جس کی قیمت تین درہم تھی ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مجنمیم کے کسرہ اور جیم کے فتحہ سے بمعنی ڈھال ہے،جنسے مشتق بمعنی چھپانا،چونکہ ڈھال سر چھپانے کا آلہ ہے اس لیے اسےمجنکہتے ہیں،ڈھال کی قیمت میں بھی احادیث میں اختلاف ہے۔چنانچہ ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداابن عمرو ابن العاص سے روایت کی کہ ڈھال کی قیمت دس درہم تھی اور چونکہ یہ ہاتھ کاٹنا حد ہے اور حدود شبہات سے دفع ہوجاتے ہیں اس لیے دینار سے کم کی روایات مشکوک و مشتبہ ہیں اور دینار کی روایت یقینی ہے لہذا حد جیسے نازک مسئلہ میں یہ ہی روایت معتبر ہونی چاہیے یعنی بڑی سے بڑی قیمت کو نصاب بنانا لازم ہے۔حاکم نے مستدرک میں بروایت مجاہد عن ایمن نقل کیا کہ حضور انور کے زمانہ میں ڈھال سے کم قیمتی مال میں ہاتھ نہ کٹتے تھےوثمنہٗ یومئذٍ دیناراور اس زمانہ میں ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔خیال رہے کہ یہ ایمن صحابی ہیں انہیں ابن ام ایمن بھی کہا جاتا ہے،ایمن تابعی دوسرے ہیں دیکھئے مرقات۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3591