Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3605

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقُطِعَتْ يَدُهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُتُقِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن فضالة بن عبيد قال: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسارق فقطعت يده، ثم أمر بها فعلقت في عتقه. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تو وہ اس کے ہاتھ میں لٹکادیا گیا پھر اس کا حکم دیا گیا تو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں بنی عمرو ابن عوف سے ہیں،جنگ احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل ہوئے،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے، جب امیر معاویہ جنگ صفین کے لیے گئے تو ان کی جگہ دمشق کے نائب خلیفہ رہے، ۵۳ھ؁ ∞ میں دمشق میں انتقال ہوا وہاں ہی دفن ہوئے۔
۲
؎تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور آئندہ کوئی چوری کیجرأت نہ کرے دیگر اماموں کے ہاں لٹکانا سنت ہے ہر چور کا ہاتھ کاٹ کر کٹا ہوا ہاتھ ہار کی طرح گلے میں پہنایا جائے،ہمارے امام صاحب کے ہاں سنت نہیں بلکہ جائز ہے اگر حاکم مناسب سمجھے تو کرے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر چور کا ہاتھ گلے میں نہ ڈالا صرف اس کا ڈالا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3605