Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3603

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اقْطَعُوهُ"، فَقُطِعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: "اقْطَعُوهُ"، فَقُطِعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: "اقْطَعُوه"، فَقُطِعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: "اقْطَعُوه"، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: "اقْتُلُوهُ"، فَانْطَلَقْنَا بِهِ، فَقتُلْنَاهُ، ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ، فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ، وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن جابر قال: جيء بسارق إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: "اقطعوه"، فقطع، ثم جيء به الثانية، فقال: "اقطعوه"، فقطع، ثم جيء به الثالثة، فقال: "اقطعوه"، فقطع، ثم جيء به الرابعة، فقال: "اقطعوه"، فأتي به الخامسة، فقال: "اقتلوه"، فانطلقنا به، فقتلناه، ثم اجتررناه، فألقيناه في بئر، ورمينا عليه الحجارة". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور لایا گیا فرمایا کاٹ دو چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیاپھر دوبارہ اسے لایا گیا فرمایا کاٹ دو چنانچہ کاٹ دیا گیا پھر اسے تیسری بار لایا گیا فرمایا کاٹ دو چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر اسے چوتھی بار لایا گیا فرمایا کاٹ دو پھر اسے پانچویں بار لایا گیا فرمایا اسے قتل کردو ۱؎چنانچہ ہم اسے لے گئے ہم نے اسے قتل کردیا پھر ہم نے اسے گھسیٹا اسے ایک کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر مارے ۲؎(ابو داؤد اور نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث پر کسی امام کا عمل نہیں،کوئی فقیہ چور کے قتل کا حکم نہیں دیتا لہذا یا تو یہ حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے کہ کسی مسلمان کا خون سوائے تین وجہوں کے حلال نہیں:ارتداد،زنا بعد احصان،قصاص،یا یہ چور مرتد ہوگیا تھا یا یہ فسادی یعنی ڈاکوؤں سے مل گیا تھا ان کی امداد کرتا تھا تو سیاسۃً اسے قتل کرادیا گیا،ظاہر یہ ہی ہے کہ وہ مرتد ہوگیا تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے۔
۲
؎یعنی ہم نے اس پر نہ نماز جنازہ پڑھی نہ دفن کیا۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ وہ مرتد ہوچکا تھا چوری کو حلال سمجھتا تھا ورنہ فاسق مسلمان کی نماز جنازہ ضروری ہے،یہاں مرقات نے بحوالہ فتح القدیر ایک عجیب حدیث نقل کی،حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور انو رصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک چور لایا گیا فرمایا اسے قتل کردو،پھر عرض کیا گیا حضور اس نے چوری کی ہے فرمایا ہاتھ کاٹ دو،چنانچہ ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر دوبارہ چوری کے جرم میں لایا گیا فرمایا قتل کردو پھر عرض کیا گیا حضور اس نے چوری کی ہے فرمایا پاؤں کاٹ دو،تیسری چوتھی بار بھی یہ ہی ہوا آخر کار پانچویں بار میں اسے قتل کردیا گیا۔نسائی نے بروایت حارث ابن حاطب نقل فرمایا کہ اس شخص نے پانچویں چوری عہد صدیقی میں کی تب صدیق اکبر نے فرمایا کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم اس کے انجام سے خبردار تھے اس لیے پہلی بار میں فرمایا تھا کہ اسے قتل کردو،یہ حدیث طبرانی سے حاکم نے مستدرک میں نقل فرمائی اور کہا صحیح الاسناد ہے۔؎تمہارے منہ سے جو نکلی وہ بات ہو کے رہی۔مرقات نے اس جگہ چوری کے عجیب واقعات بیان فرمائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3603