Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3609

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا أَبَا ذَرٍّ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ؟ " يَعْنِي الْقَبْرَ، قُلْتُ: اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: "عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ" قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: تُقْطَعُ يَدُ النَّبَّاشِ لأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيِّتِ بَيْتَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي ذر قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا أبا ذر" قلت: لبيك يا رسول الله وسعديك قال: "كيف أنت إذا أصاب الناس موت يكون البيت فيه بالوصيف؟ " يعني القبر، قلت: الله ورسوله أعلم قال: "عليك بالصبر" قال حماد بن أبي سليمان: تقطع يد النباش لأنه دخل على الميت بيته. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابوذر میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول افرمایا اس وقت تم کیسے ہوگے جب لوگوں کو عام وبائی موت پہنچے گی ۱؎کہ اس میں قبر غلام کی عوض ہوگی گھر سے مراد قبر تھی ۲؎میں نے عرض کیا او رسول ہی جانیں۳؎فرمایا تم صبر اختیار کرنا۴؎حماد ابن سلیمان نے فرمایا ۵؎کہ کفن چور کے ہاتھ کاٹے جائیں کیونکہ وہ میت پر اس کے گھر میں گھس گیا ۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک وقت تم ایسا دیکھو گے کہ جہاں تم ہو گے وہاں کوئی وبا پھیلے گی جس سے لوگ بہت زیادہ مریں گے تم اس وقت کیا کرو گے وہاں صابر ہو کر رہو گے یا وہاں سے بھاگ جاؤ گے،یہ جگہ مدینہ منورہ کے علاوہ ہوگی کیونکہ مدینہ منورہ میں وبا نہیں پھیلتی۔
۲
؎یعنی موت اس قدر عام ہوگی کہ ایک قبر کی جگہ ایک غلام کے عوض فروخت ہوگی یا ایک قبر کی کھدوائی کی اجرت ایک غلام کی قیمت ہوگی۔
۳
؎یعنی مجھے خبر نہیں کہ اس وقت میرا کیا حال ہوگا صبر یا بے صبری،یہ تو آپ اور آپ کے رب کو ہی خبر ہے۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کرام کا عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر شخص کے ہر اگلے پچھلے حالات سے خبردار ہیں،ہم کو اپنے حال کی ایسی خبر نہیں جیسی خبر حضور کو ہے صلی اللہ علیہ و سلم۔
۴
؎یہ حکم بھی ہے خبر بھی یعنی تم اس وقت صبر کرو گے اور ایسا ہی کرنا کہ وہاں کی جگہ سے بھاگ جانا بے صبری ہے۔
۵
؎حماد تابعی ہیں،ثقہ ہیں،کوفی ہیں،فقیہ مجتہد ہیں،حضرت انس اور سعید ابن مسیب و ابراہیم نخعی سے روایات کرتے ہیں،حضرت امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے استاذ حدیث ہیں، ۱۲۰ھ؁ ∞ میں وفات ہوئی،آپ کے والد ابو سلیمان کا نام مسلم اشعری ہے وہ ابراہیم ابن موسیٰ اشعری کے مولیٰ ہیں،حضرت امام ابوحنیفہ کی احادیث حماد عن ابراہیم النخعی ہوتی ہیں۔(اشعہ)
۶
؎یعنی حضرت حماد نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گاکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے میت کی قبر کو گھر فرمایا اور گھر سے چوری کرنے والا قطع کا مستحق ہے۔خیال رہے کہ امام اعظم و امام محمد کے نزدیک کفن چور کا ہاتھ نہ کٹے گا،امام ابویوسف و امام شافعی وغیرہم کے نزدیک کٹے گا،ان آئمہ کی دلیل یہ حدیث ہے مگر اس سے استدلال بہت ضعیف ہے کیونکہ اگرچہ قبر گھر ہے مگر غیرمحفوظ ہے اور کفن غیر مملوک ہے،غیر محفوظ جگہ سے غیر مملوک مال کی چوری سے قطع نہیں جس مکان کا دروازہ بند نہ ہو اور کوئی محافظ بھی موجود نہ ہو وہاں سے چوری کرنے والے کا ہاتھ کسی کے نزدیک نہیں کٹتا،حضرت عبداابن عباس،سفیان ثوری،امام اوزاعی اور امام زہری کا یہ قول ہے کہ کفن چور پر قطع نہیں،کفن چور کے قطع کے متعلق جس قدر روایات ہیں وہ تمام ضعیف ہیں،اس کی تفصیل اس جگہ مرقات میں دیکھو۔ابن ابی شیبہ نے امام زہری سے روایت کی کہ مروان کے پاس ایک کفن چور لایا گیا تو اس نے کوڑے لگوائے تمام صحابہ نے یہ دیکھا اور کسی نے انکار نہ کیا بلکہ مروان نے صحابہ کرام سے اس کے متعلق مشورہ کیا تو سب نے رائے دی کہ اس کے کوڑے لگوائے جائیں اور اسے تمام شہر میں گشت کرائی جائے،ہاں امام اعظم کے ہاں اگر حاکم سیاسۃً کفن چور کا ہاتھ کٹوا دے تو جائز ہے کہ یہ حد نہیں بلکہ تعزیر ہے،یہ بحث اچھی طرح خیال میں رہنی چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3609