Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3607

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَهُ، فَقَالُوا: مَا كُنَّا نُرَاكَ تَبْلُغُ بِهِ هَذَا، قَالَ: "لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُهَا". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

عن عائشة قالت: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسارق فقطعه، فقالوا: ما كنا نراك تبلغ به هذا، قال: "لو كانت فاطمة لقطعتها". رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ایک چور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا حضور نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا لوگوں نے عرض کیا حضور ہم گمان نہ کرتے تھے کہ یہ یہاں تک پہنچ جائے گا ۱؎فرمایا اگر فاطمہ ہوتیں تو میں ان کے ہاتھ کاٹ دیتا ۲؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہم حضور عالی کے متعلق یہ گمان نہ کرتے تھے کہ اسے اتنی سخت سزا دیں گے بلکہ ہمارا خیال تھا کہ رحم خسروانہ فرما کر اسے معمولی جھڑک فرمائیں گے،وہ حضرات سمجھے تھے کہ شرعی سزائیں معاف ہوسکتی ہیں۔
۲
؎کیونکہ مجرم پر رحم یہ ہی ہے کہ اسے پوری سزا دے دی جائے کسی کی کسی طرح رعایت نہ کی جائے کہ اس سے ملک میں امان قائم رہتی ہے اور یہ سزائیں حق اللہ ہیں کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتے۔لو کانوہ قضیہ شرطیہ ہے جس کا مقدم اور تالی دونوں ناممکن ہیں اس سیدہ کا نام لے کر یہ بتانا منظور ہے کہ شرعی سزا میں کسی بڑے سے بڑے درجے والے کی بھی رعایت نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3607