Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1784

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَشِيْرِ بْنِ الْخَصَاصِيَّةِ قَالَ: قُلْنَا: إِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُوْنَ عَلَيْنَا، أَفَنَكْتُمُ مِنْ أَمْوَالِنَا بِقَدْرِ مَا يَعْتَدُوْنَ؟ قَالَ: «لَا». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن بشير بن الخصاصية قال: قلنا: إن أهل الصدقة يعتدون علينا، أفنكتم من أموالنا بقدر ما يعتدون؟ قال: «لا». رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بشیر ابن خصاصیہ سے ۱؎ فرماتے ہیں ہم نےعرض کیا کہ زکوۃ وصول کرنے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں تو کیا ہم ان کی زیادتی کی بقدر اپنے مال چھپالیا کریں فرمایا نہیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ آپ کے والد کا نام معبد یا یزید ہے،ان کی کنیت خصاصیہ ہے،خصاصیہ ان کی ماں کا نام تھا کیونکہ وہ قبیلہ خصاص کی تھیں جو خاندان ازد کا ایک مشہور قبیلہ ہے۔
۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عاملوں کی شکایت کرنے والوں کا منشاء یہ تھا کہ انہیں کچھ نصاب چھپالینے اور زکوۃ پوری ادا نہ کرنے کی اجازت دے دی جائے اور اگر اجازت دے دی جاتی تو یہ سلسلہ ایسا بڑھ جاتا کہ دنیا سے زکوۃ ہی مٹ کر رہ جاتی اس لیے فرمایا گیا چھپاؤ مت،اگر وہ زیادہ مانگیں تو ان سے مسئلہ شرعی پوچھو نہ مانیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1784