- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1779
باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1779
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اِسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهٗ: اِبْنُ اللُّتْبِيَّةِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: هٰذَا لَكُمْ، وَهٰذَا أُهْدِيَ لِيْ. فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّيْ أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْكُمْ عَلٰى أُمُوْرٍ مِمَّا وَلَّانِيَ اللّٰهُ، فَيَأْتِيْ أَحَدُهُمْ فَيَقُوْلُ: هٰذَا لَكُمْ، وَهٰذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِيْ، فَهَلَّا جَلَسَ فِيْ بَيْتِ أَبِيْهِ أَوْ بَيْتِ أُمِّهٖ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى لَهٗ أَمْ لَا وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهٗ عَلٰى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيْرًا لَهٗ رُغَاءٌ، أَوْ بقْرًا لَهٗ خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ»، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتّٰى رَأَيْنَا عُفْرَةَ إِبِطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اَللّٰهُمَّ هَلْ بَلَّغَتُ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ).
قَالَ الْخَطَّابِيُّ: وَفِيْ قَوْلِهٖ:«هَلَّا جَلَسَ فِيْ بَيْتِ أُمِّهٖ أَوْ أَبِيْهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدٰى إِلَيْهِ أَمْ لَا دَلِيْلٌ عَلٰى أَنَّ كُلَّ أَمْرٍ يتذَرَّعُ بِهِ إِلٰى مَحْظوْرٍ فَهُوَ مَحْظُوْرٌ، وَكُلُّ دَخِيْلٍ فِي الْعُقُوْدِ يُنْظَرُ هَلْ يَكُوْنُ حُكْمُهٗ عِنْدَ الِانْفرَادِ كَحُكْمِهٖ عِنْدَ الِاقْتِرَانِ أَمْ لَا» هٰكَذَا فِيْ «شَرْحِ السُّنَّةِ».
وعن أبي حميد الساعدي قال: استعمل النبي صلی اللہ عليه وسلم رجلا من الأزد يقال له: ابن اللتبية على الصدقة، فلما قدم قال: هذا لكم، وهذا أهدي لي. فخطب النبي صلی اللہ عليه وسلم فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: «أما بعد! فإني أستعمل رجالا منكم على أمور مما ولاني الله، فيأتي أحدهم فيقول: هذا لكم، وهذه هدية أهديت لي، فهلا جلس في بيت أبيه أو بيت أمه فينظر أيهدى له أم لا والذي نفسي بيده لا يأخذ أحد منه شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على رقبته، إن كان بعيرا له رغاء، أو بقرا له خوار، أو شاة تيعر»، ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه ثم قال: «اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت». (متفق عليه).
قال الخطابي: وفي قوله:«هلا جلس في بيت أمه أو أبيه فينظر أيهدى إليه أم لا دليل على أن كل أمر يتذرع به إلى محظور فهو محظور، وكل دخيل في العقود ينظر هل يكون حكمه عند الانفراد كحكمه عند الاقتران أم لا» هكذا في «شرح السنة».
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جنہیں ابن لتبیہ کہاجاتا تھا صدقہ پر عامل بنایا ۱؎ جب وہ واپس ہوئے تو بولے یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیۃً دیا گیا۲؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اللہ کی حمدوثناء کی پھر فرمایا حمدوثناء کے بعد سنو کہ ہم تم میں سے بعض کو ان چیزوں پر عامل بناتے ہیں جن کا اللہ نے ہمیں والی بنایا۳؎ تو ان میں سے بعض آکر کہتے ہیں کہ یہ تمہاراہے اور یہ مجھے ہدیہ نذرانہ دیا گیا تو وہ اپنے ابا اماں کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا پھر دیکھتا کہ اسے نذرانہ ملتا ہے یا نہیں ۴؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی شخص اس میں سے کچھ نہ لے گا مگر قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کے لائے گا ۵؎ اگر اونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوگا یا گائے ہے تو وہ چیختی ہوگی یا بکری کہ ممیاتی ہوگی ۶؎ پھرحضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے حتی کہ ہم نے حضور کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر عرض کیا الٰہی کیا میں نے تبلیغ کردی اے مولیٰ کیا میں نے تبلیغ کردی ۷؎ (مسلم،بخاری)خطابی نے فرمایا کہ حضور انور کے اس فرمان میں کہ وہ اپنی ماں کے گھر یا باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ رہا کہ دیکھتا کیا اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں اس کی دلیل ہے کہ جسے ممنوع کام کا ذریعہ بنایا جائے وہ بھی ممنوع ہے ۸؎ اور جو چیز عقدوں میں داخل ہو اس میں غور کیا جائے کہ آیا اس کا علیحدہ کا حکم دوسرے سے ملنے کے حکم کی طرح ہے یا نہیں ۹؎ شرح سنہ میں یوں ہی ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎ان صاحب کا نام عبد اللہ ہے،قبیلہ بنی لتب کے ہیں جو قحطان کا مشہور قبیلہ ہے۔(مرقات ولمعات)
۲؎یعنی ان کے پاس وصول کردہ زکوۃ سے زیادہ مال تھا جو زکوۃ دینے والوں نے انہیں بطور ہدیہ علاوۂ زکوۃ دیا تھا۔یہ ان صحابی کی انتہائی دیانتداری ہے کہ اس ہدیہ کو گھر نہ رکھ گئے سب کچھ بارگاہ شریف میں پیش کردیا اور اصل واقعہ بیان کردیا۔
۳؎یعنی صدقات و زکوۃ وصول کرنا ہمارے ذمہ ہے تم لوگ ہمارے نائب ہوکر جاتے ہو اور ہمیں تو صدقہ دینے والوں سے ہدیہ لینا منع ہے تو تمہیں کیوں جائز ہوگا۔
۴؎یعنی یہ نذرانہ نہیں ہے بلکہ رشوت ہے کہ اس کے ذریعہ صاحب نصاب آئندہ اصل زکوۃ سے کچھ کم کرانے کی کوشش کریں گے، نیز جب اسے کام کی اجرت پوری ہم دیتے ہیں تو یہ ہدیہ کیا چیز ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ حکام کے نذرانے اور خاص دعوتیں رشوت ہیں،ہاں حاکم عام دعوت ولیمہ وغیرہ کھا سکتا ہے،نیز جو نذرانے، ہدیہ اور ڈالیاں اس کے حاکم بننے کے بعد شروع ہوں وہ سب رشوتیں ہیں،ہاں جن لوگوں کے ساتھ اس کا پہلے ہی سے لین دین ہو اور اس کے معزول ہونے کے بعدبھی وہی لین دین رہے وہ رشوت نہیں جیسے عزیزوں اور قدیمی احباب سے نیوتے بھاجی وغیرہ،ان مسائل کی اصل یہ حدیث ہے۔
۵؎یعنی جو عامل زکوۃ میں چوری یا خیانت کرے یا زکوۃ دینے والوں سے رشوت وصول کرے۔غرضکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ جس طرح بھی خفیۃً یا علانیۃً کچھ لے،لفظمِنْہُان سب کو شامل ہے۔(مرقات)غرضکہ یہاں زکوۃ کی چوری ہی مراد نہیں کیونکہ ان صاحب نے کوئی چوری نہ کی تھی۔خیال رہے کہ یہاں توگردن کے اٹھانے کا ذکر ہے مگر قرآن شریف میں پیٹھوں پر لادنے کا کہ ارشاد ہوا "وَھُمْ یَحْمِلُوۡنَ اَوْزَارَھُمْ عَلٰی ظُہُوۡرِھِمْ"کیونکہ آیت میں کفار کا ذکر ہے اور یہاں گنہگارمسلمان کا،چونکہ کفار کے گناہ زیادہ اور بھاری ہوں گے اس لیے وہ پیٹھوں پر لادیں گے اورمسلمان گنہگار کے گناہ ان سے کم اور ہلکے ہوں گے اس لیے گردن پر اٹھائیں گے،یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پیٹھ کی انتہا گردن ہے لہذا گردن پر اٹھانا گویا پیٹھ پر ہی اٹھانا ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے۔
۶؎یعنی اگر خیانۃً یا رشوۃً اونٹ،گائے،بکری یا کوئی اور جانور بھی لیا ہوگا تو اسے بھی اپنی گردن پر اٹھائے پھرے گا وہ بوجھ سے دبے گا بھی اوران آوازوں کی وجہ سے سارے محشر میں بدنام بھی ہوگا۔معلوم ہوا کہ نیکیوں پر قیامت میں انسان سوار ہوگا اور بدیاں انسان پرسوارہوں گی۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی قیامت میں مسلمانوں کے خفیہ گناہ نہ کھولے گا ستاری فرمائے گا مگر جو بے غیرت دنیا میں علانیہ گناہ کریں اور ان پر فخربھی کریں وہ ضرورکھلیں گے لہذا یہ حدیث عیب پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔
۷؎سبحان الله!کیا پاکیزہ عرض ومعروض ہے رب تعالٰی سے کہہ رہے ہیں بندوں کو سنا رہے ہیں کہ میں اپنے فرض تبلیغ سے فارغ ہوچکا،اب کسی مجرم کو یہ عذر نہ ہوگا کہ مجھے خبر نہ تھی تاقیامت ہرمسلمان پر بقدر ضرورت دینی مسائل سیکھنا فرض ہے،اب اگر کوئی خود نہ سیکھے اور بےخبر رہے تو اس کا اپنا قصور ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوتاہی نہیں۔
۸؎یعنی جو کام بذات خود تو اچھا ہے مگر اس کے ذریعہ سے حرام کا ارتکاب کیاجائے تو یہ اچھا کام بھی حرام ہوجائے گا کیونکہ عامل بن کر جانا یا حاکم بننا اچھا کام ہے لیکن اگر رشوتیں لینے کے لیے کیا جائے تو حرام ہوگا جیسےکسی غریب کو قرض دینا نیکی ہے یا ضرورۃ ً کسی مقروض کی کوئی چیز رہن(گروی)رکھ لینا بھلائی ہے لیکن اگر قرض پر سود لیا جائے اور گروی مکان سے نفع لیا جائے تو یہ قرض بھی حرام ہوجائے گا۔
۹؎یعنی جو عقد علیحدہ رہ کر حرام ہوگا وہ حلال سے مل کربھی حرام ہوگا اور جو علیحدہ ہوکر حلال ہوگا وہ حلال سے مل کر بھی حلال رہے گا۔یہ قاعدہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جو شرعی حیلے ناجائز کہتے ہیں مگر ہمارے ہاں ضرورۃً شرعی حیلے جائز ہیں لہذا ہمارے ہاں یہ قاعدہ کلیہ نہیں،ہماری دلیل وہ حدیث ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ردّی کھجوریں زیادہ دے کر کھری کھجوریں کم لیں تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سود ہوگیا تمہیں چاہیئے تھا کہ یہ ردّی کھجوریں روپے کے عوض بیچتے پھر اسی روپے کے عوض خریدار سے کھری کھجوریں لے لیتے،دیکھو حرام سے بچنے کا یہ حیلہ ہے۔غرضکہ ناجائز عقد جائز عقد سے مل کر کبھی تو خود جائز بن جاتاہے اور کبھی جائزکردیتا ہے،یہ قاعدہ خوب یاد رکھا جائے۔ناپاک پانی پاک پانی میں مل کر کبھی خود پاک ہوجاتا ہے جیسے تالاب میں ڈالا جائے اور کبھی اسے بھی ناپاک کردیتا ہے جیسے کنوئیں میں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1779