Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1777

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِيْ أَوْفٰى قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ: « اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى آلِ فُلَانٍ»، فَأَتَا أَبِيْ بِصَدَقَتِهٖ، فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ صَلِّ علَى آلِ أَبِيْ أَوْفٰى». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ).
وَفيْ رِوَايَةٍ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَتِهٖ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ».

وعن عبد الله بن أبي أوفى قال: كان النبي صلی اللہ عليه وسلم « إذا أتاه قوم بصدقتهم قال: « اللهم صل على آل فلان»، فأتا أبي بصدقته، فقال: «اللهم صل على آل أبي أوفى». (متفق عليه).
وفي رواية: إذا أتى الرجل النبي صلی اللہ عليه وسلم بصدقته قال: «اللهم صل عليه».

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن ابی اوفی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی قوم اپنا صدقہ لاتی ۲؎ تو آپ فرماتے الٰہی فلاں کی اولاد پر رحمتیں نازل کر۳؎ میرے والد اپنا صدقہ لائے تو آپ نے فرمایا الٰہی ابی اوفی کی اولاد پر رحمت کر۴؎ (مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا صدقہ لاتا تو آپ فرماتے الٰہی اس پر رحمت کر۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ دونوں باپ بیٹے صحابی ہیں اور یہ عبد اللہ کوفہ کے آخری صحابی ہیں جنہوں نے وہاں وفات پائی۔(اشعہ)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں صدقہ سے مراد سونے چاندی وغیرہ باطنی مالوں کی زکوۃ ہے کیونکہ ظاہری مالوں کی زکوۃ تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل جاکر خود ان کے گھروں سے لاتا تھا،صحابہ کرام کی عقیدت یہ تھی کہ ہمارے صدقات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے خیرات فرمائیں تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے رب تعالٰی قبول فرمائے۔اب بھی مسلمان ایصال ثواب کرتے وقت پہلے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام شریف لیتے ہیں اس کی اصل یہ حدیث ہے۔
۳
؎اَللّٰھُمَّ صَلِّدرود ہے۔حق یہ ہے کہ غیرنبی پر مستقلًا درود پڑھنا منع ہے حضور علیہ السلام کا یہ ارشاد فرمانا آپ کی خصوصیات میں سے ہے کیونکہ درود شریف آپ کا حق ہے آپ جس کو چاہیں اپنا حق دیں۔بعض نے فرمایا یہاںصلوۃلغوی معنے میں ہے مگر پہلا قول قوی ہے۔(مرقات ولمعات)حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس آیت پرعمل تھا"وَصَلِّ عَلَیۡہِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ"۔سنت یہ ہے کہ زکوۃ وصول کرنے والا دینے والے کو دعائیں دے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ زکوۃ دینے والا اس وقت دعا کے لیے بھی نہ کہے کہ کہیں یہ دعا کرانا اس صدقہ کا عوض نہ بن جائے،دیکھو یہ صحابہ اس وقت حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کے لیے نہیں کہتے تھے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم دعائیں دیتے تھے تو وہ ایسے کریم ہیں کہ عطا کرکے دعا دیتے ہیں۔شعر
آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا
خود بھیک دیں اور خودکہیں منگتے کا بھلا ہو
۴
؎حضرت عبد اللہ فخریہ طور پر خدا کا شکر ادا کررہے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں ہمیں اور ہمارے والد کو بھی مل چکی ہیں،بعض نے فرمایا کہ یہاں لفظ آل زائد ہے مگر حق یہ ہے کہ آل اپنے معنے ہی میں ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم صرف ان لوگوں ہی کو نہیں بلکہ ان کے بال بچوں سارے گھر والوں کو بھی دعائیں دیتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1777