- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1790
باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1790
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَاسْتخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللّٰهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللّٰهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللّٰهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللّٰهِ مَا هُوَ إِلَّا رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن أبي هريرة قال: لما توفي النبي -صلی اللہ عليه وسلم- واستخلف أبو بكر بعده، وكفر من كفر من العرب قال عمر بن الخطاب لأبي بكر: كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فمن قال: لا إله إلا الله، عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله فقال أبو بكر: والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فإن الزكاة حق المال، والله لو منعوني عناقا كانوا يؤدونها إلى رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- لقاتلتهم على منعها، قال عمر: فوالله ما هو إلا رأيت أن الله شرح صدر أبي بكر للقتال، فعرفت أنه الحق. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے اور دیہاتیوں میں جو کافر ہوئے وہ ہوئے ۱؎تو حضرت عمر ابن خطاب نے حضرت ابوبکر سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے جنگ کیسے کریں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیاحتی کہ وہ کہیںلا الہ الا اللهتو جس نےلا الہ الا اللهکہہ لیا اس نے مجھ سے اپنے جان و مال بچالیے مگر حق اسلام کے ماتحت اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۲؎تو حضرت ابوبکر نے فرمایا رب کی قسم میں اس پر جہاد کروں گا جو نمازو زکوۃ میں فرق کرے کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے۳؎اللہ کی قسم اگر وہ مجھے بکری کا بچہ نہ دیں جو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس منع کرنے پر ان سے جہاد کروں گا۴؎حضرت عمر فرماتے ہیں خدا کی قسم میرا یہ حال ہوا کہ میں نے یہ یقین سے جان لیا کہ اس جہاد کے لیے ابوبکر کا سینہ رب نے کھولا ہے میں پہچان گیا کہ یہ جہاد برحق ہے۵؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبیلہ غطفان فزارہ،بنی سلیم وغیرہم نے وجوب زکوۃ کا انکارکردیا اور بولے کہ رب تعالٰی فرماتاہے:"خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً"یارسول اللہ ان کے مال کی زکوۃ آپ وصول کرو جب وصول کرنے والے تشریف لے گئے تو زکوۃ بھی ختم،حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں مرتد قرار دیا اور ان پر جہاد کی تیاری فرمائی،اسی طرف قرآن کریم نے اشارہ فرمایا تھا"وَمَنۡ یَّرْتَدَّ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوْفَ یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ"الآیۃ۔یہ صدیقی جماعت ہی وہ جماعت ہے جو ان مرتدین کی سرکوبی کے لیے رب تعالٰی کی طرف سے مقرر ہوئی،یہ خدا کو پیاری خدا اسے پیارا۔خیال رہے کہ اسی عہد صدیقی میں بہت سے لوگ مسیلمہ کذاب کو نبی ماننے لگے اور مرتد ہوگئے،پہلے مرتدین پر آپ نے لشکر کشی کی ہی تھی کہ وہ توبہ کر گئے مگر ان دوسرے مرتدین سے بہت گھمسان کارن پڑا جس میں اکثر قاری اور حافظ صحابہ شہید ہوگئے جس پر جمع قرآن کی ضرورت پیش آئی اور حضرت صدیق نے قرآن پاک جمع فرمایا،اس موقعہ کی قرآن کریم نے اس طرح خبر دی"قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَۚ"الخ۔
۲؎فاروق اعظم اولًا منکرین زکوۃ پر جہاد کے مخالف تھے ان کی دلیل اس حدیث کے ظاہری الفاظ تھے کہ کلمہ گو پر جہاد کیسا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری کلمہ پڑھنے والے منافقین پر جہاد نہ فرمایا تو یہ مانعین زکوۃ تو دل سے کلمہ پڑھ رہے ہیں اور زکوۃ کے سوا تمام فرائض کے معتقد ہیں تو ان پر آپ جہاد کیسے کرسکتے ہیں۔فاروق اعظم کی پیش کردہ حدیث کی پوری شرح مکمل بحث کے ساتھکتاب الایمانکے شروع میں ہوچکی کہ یہاںحتیبمعنی کے ہے۔
۳؎صدیق اکبر کا یہ جواب نہایت جامع اور مختصر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اے عمر تم نے اپنی حدیث میں یہ لفظ نہ دیکھااِلَّابِحَقِّہٖیعنی کلمہ گو کو حق اسلام کی وجہ سے قتل کیا جاسکتا ہے،نماز بھی حق اسلام ہے اور زکوۃ بھی،جو ان دونوں میں فرق کرے کہ نماز کو مانے زکوۃ کا انکارکرے وہ یقینًا مستحق جہاد ہے۔رہے منافقین ان کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث میں فرمایا "وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللهِ"یعنی ہم دل سے بحث نہ کریں گے جو کوئی بظاہر اسلام کے سارے ارکان کا اقرار کرے ہم اس پر جہاد نہ کریں گے،دل میں اس کے کچھ بھی ہو،منافقین کسی رکن اسلامی کے زبان سے منکر نہ تھےسبحان الله!کیا پاکیزہ استدلال ہے۔
۴؎یعنی اے عمر وجوب زکوۃ کا انکار تو بڑی چیز ہے اگر وہ لوگ ظاہری مال یعنی پیداوار اور جانوروں کی زکوۃ ہمارے بیت المال میں داخل نہ کریں تب بھی تو وہ سرکوبی کے مستحق ہیں کیونکہ اس میں ایک سنت رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا دیدہ و دانستہ انکار ہے۔ اس جگہ مرقات میں ہے کہ اگر کوئی قوم اذان دینا چھوڑ دے تو سلطان اسلام ان سے بھی جنگ کرے گا کیونکہ اس میں شعار اسلامی کا بندکرنا ہے۔خیال رہے کہ اب چونکہ بادشاہ عمومًا لاپرواہ اور حکام فاسق ہوگئے جن سے امید نہیں کہ زکوتوں کو ان کے مصرفوں پر صرف کریں لہذا اب انہیں کوئی زکوۃ نہ دی جائے اسی لیے صدیق اکبر نےمَنَعُوْنِیْفرمایا یعنی مجھے اور مجھ جیسے عادل سلطان اسلام(جس کے سارے حکام منصف ہوں)کو زکوۃ نہ دیں تو ان پر جنگ ہوگی۔مرقات نے اس جگہ فرمایا کہ عثمان غنی کے زمانہ میں لوگوں کا حال بدل گیا تھا اس لیے آپ نے زکوۃ وصول کرنے میں سختی نہ فرمائی بلکہ مال والے اپنی زکوتیں خود دینے لگے اور کسی صحابی نے آپ کے اس عمل پر انکار نہ کیا۔خیال رہے کہ وجوب زکوۃ کا انکار کفر ہے ایسے لوگوں پر اسلامی جہاد ہوگا اور اس زمانہ میں خلیفۃ المسلمین کو زکوۃ نہ ادا کرنا بغاوت تھی جس پر ان کے خلاف تادیبی کاروائی حتی کہ جنگ بھی کی جاسکتی تھی لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے اور اس کے شروع میں"کَفَرَ مَنْ کَفَرَ"فرمانا بالکل درست ہے۔مرقات میں یہاں ہے کہ احناف کے نزدیک حاکم کو جبرًا زکوۃ وصول کرنے کا حق نہیں،شوافع کے ہاں ہے،یہ حدیث چونکہ منکرین زکوۃ کے متعلق ہے اس لیے احنا ف کے خلاف نہیں۔
۵؎یعنی میں نے حضرت صدیق کی رائے کی طرف رجوع کرلیا۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صدیق اکبر بعد نبی تمام مخلوق سے بڑے عالم اور بڑے سیاست دان تھے،انہی کے علم پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا دفن اپنے حجرے میں ہوا، انہی کے علم پرحضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑا ہوا مال وقف بنا،انہی کے علم پر اس جہاد کی تیاری ہوئی،اگر آج آپ تھوڑی نرمی کرتے تو فرائض اسلامی کے انکار کا دروازہ کھل جاتا اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت آپ ہی کو جانشین امام نماز بنایا،انہی کی سیاست سے حجاز بلکہ عرب میں امن و امان بحال ہوا اور فاروقی فتوحات کے لیے راستہ صاف ہوا۔دوسرے یہ کہ ایک شعار اسلامی کا انکار بھی ایسا ہی کفر ہے جیسے سارے ارکان کا انکار۔تیسرے یہ کہ کلمہ گو مرتدین پر جہاد کیا جائے گا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1790