Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1792

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ الآيَةَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن ابن مسعود عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: ما من رجل لا يؤدي زكاة ماله إلا جعل الله يوم القيامة في عنقه شجاعا، ثم قرأ علينا مصداقه من كتاب الله ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله الآية رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا ایسا کوئی شخص نہیں جو اپنے مال کی زکوۃ نہ دے مگر اللہ قیامت کے دن اس کے گلے میں اسے سانپ بنا کر ڈالے گا ۱؎پھر آپ نے ہم پر اس دلیل میں قرآن شریف سے یہ آیت پڑھی کہ جو لوگ اللہ کے دیئے ما ل میں بخل کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں،الآیہ ۲؎(ترمذی،نسائی،
ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ پہلے یہ مال سانپ بن کر اس کے پیچھے بھاگے گا،پھر اسے پکڑ کر اس کے گلے میں طوق بن کر پڑ جائے گا،انگلیاں بھی چباتا رہے گا اور ڈستا بھی رہے گا،چونکہ گلے کا ہار ہر وقت نظر آتا ہے اور جیب کے اندر کی چیز ہر وقت نظر نہیں آتی اس لیے یہ سانپ گلے میں پڑے گا تاکہ مالک دیکھ کر ہر وقت ڈرتا رہے اور محشر کے دوسرے لوگ پہچان جائیں کہ کنجوس یہ ہے،یہ واقعہ مسلمان کی عیب پوشی کے خلاف نہیں جیسے کہ ابھی عرض کیا جاچکا۔
۲
؎صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بخل صرف مال میں ہی نہیں ہوتا بلکہ مال،کمال،اعمال،احوال،افضال سب میں ہوتا ہے۔لفظمِنْ فَضْلِہٖسب کو شامل ہے۔عالم اور صوفی کو چاہیئے کہ لوگوں میں علم و ہدایت پھیلائیں ورنہ ان کی پکڑ مالی بخیل سے زیادہ ہوگی، رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللهُ مِنَ الْکِتٰبِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1792