Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1788

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ: «أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيْلِ صَدَقَةٍ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهٗ فِيْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن علي: «أن العباس سأل رسول الله صلی اللہ عليه وسلم في تعجيل صدقة قبل أن تحل، فرخص له في ذلك. رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ حضرت عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوۃ فرض ہونے سے پہلے ادا کردینے کے متعلق پوچھا تو حضور انور نے انہیں اس کی اجازت دی ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ اور دارمی)

شرح حدیث

۱؎ یعنی اگر کسی کے پاس بقدر نصاب مال آگیا تو سال گزرنے سے پہلے اس کی زکوۃ دے سکتے ہیں کیونکہ سال گزرنا زکوۃ کے لیے شرط وجوب ہے اس کا سبب مال ہے،اسی طرح فطرہ کہ عید سے پہلے ادا کیا جاسکتا ہے،نماز کے لیے وقت وجوب کا سبب ہے اس لیے وہ وقت سے پہلے نہیں ہوسکتی۔امام مالک کے ہاں زکوۃ بھی سال گزرنے سے پہلے نہیں دے سکتے،یہ حدیث امام ابوحنیفہ اور جمہور علماء کی دلیل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1788