Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1781

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ (وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ) كَبُرَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ فَانْطَلَقَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! إِنَّهٗ كَبُرَ عَلٰى أَصْحَابِكَ هٰذِهِ الآيَةُ، فَقَالَ: «إِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ، وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيْثَ وَذَكَرَ كَلِمَةً لِتَكُوْنَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ» فَقَالَ: «فَكَبَّرَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ لَهٗ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن ابن عباس قال: لما نزلت هذه الآية (والذين يكنزون الذهب والفضة) كبر ذلك على المسلمين، فقال عمر: أنا أفرج عنكم فانطلق، فقال: يا نبي الله! إنه كبر على أصحابك هذه الآية، فقال: «إن الله لم يفرض الزكاة إلا ليطيب ما بقي من أموالكم، وإنما فرض المواريث وذكر كلمة لتكون لمن بعدكم» فقال: «فكبر عمر ثم قال له: ألا أخبرك بخير ما يكنز المرء المرأة الصالحة، إذا نظر إليها سرته، وإذا أمرها أطاعته، وإذا غاب عنها حفظته». رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں،الآیۃ۔تو مسلمانوں پر بہت بھاری پڑا ۱؎ تو حضرت عمر بولے کہ تمہاری اس تنگی کو میں کھولتا ہوں ۲؎ آپ چلےعرض کیا یا نبی اللہ یہ آیت حضور کے صحابہ پر بھاری ہے حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے زکوۃ اس ہی لیے فرض فرمائی کہ تمہارے باقی مالوں کو پاک کردے ۳؎ اور میراثیں اسی ہی لیے فرض فرمائیں
(اور کچھ کلام کیا)تاکہ وہ پاک مال تمہارے بعد والوں کا ہو ۴؎ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے تکبیر کہی ۵؎ پھرحضور نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ بہترین چیز نہ بتاؤں جو آدمی جمع کرے وہ اچھی بیوی ہے کہ جب اسے دیکھے تو پسند آئے اور جب اسے حکم دے تو وہ فرماں برداری کرے اور جب مرد غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ مسلمانوں نےکَنْزٌکے لغوی معنے مراد لیے یعنی مطلقًا جمع کرنا اور یہ سمجھے کہ سونے چاندی کو جمع کرنا بہرحال حرام ہے اور قیامت کے دن داغ کا باعث ہے حالانکہ بغیر کچھ جمع کئے دنیوی کاروبار نہیں چل سکتے۔
۲
؎یعنی آیت کے ظاہری معنے مراد نہیں ہوسکتے کیونکہ اسلام درمیانی دین ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمرَحْمَۃٌ لِلْعَالَمِیْنَاور قرآن کریم میانہ روی سکھانے والی کتاب،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس دین میں مال جمع کرنا مطلقًا حرام ہوجائے پھر جہاد کیسے ہونگے اور زکوۃ کس چیز کی دی جائے گی ہماری سمجھ میں غلطی ہے۔
۳
؎یعنی یہاںکَنْزٌکے اصطلاحی معنے مراد ہیں کہ مال جمع رکھنا،اس سےاللہ کے حق نہ نکالنا،فقراء کے حقوق ادا نہ کرنا۔خیال رہے کہ زکوۃ نکالنے سے مال ایسا ہی پاک ہوجاتاہے جیسے جانور کا خون نکل جانے سے گوشت یا کیلے اور آم وغیرہ کا چھلکا علیحدہ کردینے سے مغز کھانے کے قابل ہوجاتاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا
۴
؎یعنی اگر مال جمع کرنا مطلقًا حرام ہوتا تو اس میں سے زکوۃ کیوں دی جاتی اور مالک کے مرنے کے بعد بطور وارثت دوسروں کو کیسے ملتا۔ان احکام سے معلوم ہورہا ہے کہ مال کا جمع کرنا منع نہیں بلکہ عبادت ہےکیونکہ بہت سی عبادتوں کا موقوف علیہ ہے اور عبادت کا موقوف علیہ بھی عبادت ہوتا ہے،زکوۃ جب ادا ہو جب سال بھر مال مالک کے پاس جمع رہے اور میراث جب بٹے جب مرتے وقت تک مال مالک کے پاس جمع رہے۔خیال رہے کہوَذَكَرَ كَلِمَةًراوی کا قول ہے یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی فرمایا جو مجھے یاد نہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بعد والوں کو مال ملے۔
۵
؎یعنی مسئلہ حل ہوجانے پر جناب فاروق اعظم کو خوشی ہوئی اور خوشی میںالله اکبرکہا۔اس سے معلوم ہوا کہ دینی مسئلہ معلوم ہونے پر خوش ہونا اور خوشی میںالله اکبرکا نعرہ لگانا سنت صحابہ ہے۔
۶
؎یعنی اے عمر اگرچہ مال جمع کرنا جائزہے مگر تم لوگ اسے اپنا اصل مقصود نہ بنالو اس سے بھی بہتر مسلمان کے لیے نیک بیوی ہے کہ صورت بھی اچھی ہو اور سیرت بھی کہ اس کے نفع مال سے زیادہ ہیں کیونکہ سونا چاندی اپنی ملک سے نکل کر نفع دیتے ہیں اور نیک بیوی اپنے پاس رہ کر نافع ہے،سوناچاندی ایک بار نفع دیتے ہیں اور بیوی کا نفع قیامت تک رہتا ہے مثلًا رب تعالٰی اس سے کوئی نیک بیٹا بخشے جو زندگی میں باپ کا وزیر بنے اور بعدموت اس کا خلیفہ۔حدیث شریف میں ہے کہ نکاح سے مرد کا دو تہائی دین مکمل ومحفوظ ہوجاتاہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جمیلہ عورت کا چہرہ جمال الٰہی کا آئینہ ہوتا ہے اور اس کی نیک خصلت صفات الٰہی کا مظہر ہوتی ہے۔سبحان الله!سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کتنا جامع ہے عورت کی سیرت دوکلموں میں بیان فرمادی کہ جب خاوند گھر میں موجود ہو تو اس کی ہر جائز بات مانے اور جب غائب ہو یعنی سفر میں ہو یا مرجائے تو اس کے مال، عزت و اسرار کی حفاظت کرے یعنی آمنہ امینہ و مامونہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1781