Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1782

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيْكٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَأْتِيْكُمْ رُكَيْبٌ مُبْغَضُوْنَ، فَإِذَا جَاؤُوْكُمْ فَرَحِّبُوْا بِهِمْ، وَخَلُّوْا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُوْنَ، فَإِنْ عَدَلُوْا فَلِأَنْفُسِهِمْ، وَإِنْ ظَلَمُوْا فَعَلَيْهِمْ، وَأَرْضُوْهُمْ، فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ، وَلْيَدْعُوْا لَكُمْ». رَوَاهُ أبوْ دَاوُدَ.

وعن جابر بن عتيك قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم: «سيأتيكم ركيب مبغضون، فإذا جاؤوكم فرحبوا بهم، وخلوا بينهم وبين ما يبتغون، فإن عدلوا فلأنفسهم، وإن ظلموا فعليهم، وأرضوهم، فإن تمام زكاتكم رضاهم، وليدعوا لكم». رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہارے پاس غیر پسندیدہ سوار آیا کریں گے تو وہ جب آئیں تم انہیں خوش آمدید کہو اور جو وہ چاہتے ہوں ان کے سامنے حاضر کردو ۲؎ پھر اگر وہ انصاف کریں تو اس میں ان کا فائدہ ہے اور اگر ظلم کریں تو انہیں مضر ہے تمہاری زکوۃ کی تکمیل ان کا راضی ہوناہے چاہیئے کہ وہ تمہیں دعائیں دیں۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ آپ انصاری ہیں اورمشہورصحابی ہیں،آپ کے جنگ بدر کی شرکت میں اختلاف ہے،باقی سارے غزووں میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،آپ کی کنیت ابوعبد اللہ ہے،عمر شریف ۹۱ سال ہوئی، ۶۱ ھ میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی آئندہ زمانہ میں کچھ سخت دل اور بداخلاق حکام بھی ہوں گے تم ان کی بد اخلاقی کی بنا پر زکوۃ کے انکاری نہ ہوجانا کہ تمہاری زکوۃ اللہ کے لیے ہے نہ کہ ان کے لیے بلکہ انہیں دیکھ کر خوش ہونا کہ ان کے ذریعہ تمہارا فریضہ ادا ہوگا،بعض دیندار غنی زکوۃ دیتے وقت فقیر کا احسان مانتے ہیں کہ اس کے ذریعہ ہمارا فرض ادا ہوا۔
۳؎ حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ظاہر ظہور ظلم کریں کہ زکوۃ سے زیادہ لیں یا زکوۃ کے ساتھ رشوت مانگیں اور تم دے دو کیونکہ ظلم پر امدادبھی ظلم ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی فعل تمہیں ظلم معلوم ہو مگر واقع میں ظلم نہ ہو تو تم اپنی رائے پر عمل نہ کرو ان کے حکم پرعمل کرو مثلًا زکوۃ میں درمیانہ جانور لینا چاہیئے ایک جانور کو تم اعلیٰ سمجھتے ہو وہ درمیانہ یا پیداوار کا دسواں حصہ دیناچاہیئے،تم ایک ڈھیر کو سو۱۰۰ من سمجھتے ہو تو وہ سوا سو من ہے تو تم ان کی بات مان لو،اب اگر واقعی وہ زیادہ لے گئے ہیں تو اس کے جواب دہ وہ ہوں گے نہ کہ تم یا یہ کلام بطریق مبالغہ ہے کہ فرض کرو کہ واقع میں وہ ظالم بھی ہوں تو بھی تم ان کا مقابلہ نہ کرو گے اس میں سلطان اسلام کی بغاوت ہوگی جس کے دبانے کے لیے وہ قوت خرچ کریں گے جس سے کشت و خون و فساد ہوگا بلکہ ان کے ظلم کی شکایت بادشاہ سے کرو اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرو لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے اس میں ظلم کی اجازت نہیں دی گئی مگر پہلے معنے راحج ہیں کیونکہ ان سے دعا لینے کا حکم دیا گیا ظالم سے دعا کب لی جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1782