Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1786

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِيْ دُوْرِهِمْ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلی اللہ عليه وسلم قال: «لا جلب ولا جنب، ولا تؤخذ صدقاتهم إلا في دورهم». رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا نہ مال ایک جگہ منگانا جائز ہے نہ دُور لےجانا لوگوں کے صدقات ان کے گھروں میں ہی لیے جائیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ خیال رہے کہ عمرو ابن شعیب کی اسناد والی احادیث مسلم،بخاری نے ہرگز نہ لیں کیونکہ یہ ہر جگہ اسی طرح اسناد کرتے ہیں، حالانکہ ان کی ملاقات اپنے دادا محمد ابن عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص سے نہیں اور نہ ان محمد کی ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لہذا یہ اسناد منقطع ہے متصل نہیں،یہ بحث پہلے بھی ہوچکی ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی نہ تو عامل کو یہ جائز ہے کہ ایک جگہ بیٹھ جائے اور لوگوں سے کہے اپنے اپنے مال جانور وغیرہ یہاں لاکر مجھے دکھاؤ اور حساب سے زکوۃ دو کیونکہ اس میں مال والوں کو سخت دشواری ہوگی اور نہ مال والوں کو یہ جائز کو اپنے جانور وغیرہ بکھیردیں،دور دور بھیج دیں کہ عامل انہیں گننے کے لیے دوڑا پھرے کہ اس میں عامل کو بہت تکلیف ہے بلکہ عامل لوگوں کے ریوڑوں اور باغوں وکھیتوں میں جاکر ہر ایک کی زکوۃ وصول کرے۔سبحان الله ! کیا نفیس تعلیم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1786