Main Icon

باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1785

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيْجٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اَلْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِيْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، حَتّٰى يَرْجِعَ إِلٰى بَيْتِهٖ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن رافع بن خديج قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : «العامل على الصدقة بالحق كالغازي في سبيل الله، حتى يرجع إلى بيته». رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ زکوۃ کا سچا عامل اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے حتی کہ اپنے گھر واپس آجائے ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے مجاہد جاتے آتے ہر حال میں عبادت کا ثواب پاتاہے ایسے ہی انصاف والا عامل ہر حال میں ثواب پائے گا کیونکہ مجاہد اسلام کے پھیلانے کا ذریعہ ہے اور یہ عامل اسلامی قانون پھیلانے،مالداروں کو ان کے فریضہ سے فارغ کرنے اور فقراء کو ان کا حق دلانے کا ذریعہ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نیت خیر ہو تو دینی خدمت پر تنخواہ لینے کی وجہ سے اس کا ثواب کم نہیں ہوتا،دیکھو ان عاملوں کو پوری اجرت دی جاتی تھی مگر ساتھ میں یہ ثواب بھی تھا۔چنانچہ مجاہد کو غنیمت بھی ملتی ہے اور ثواب بھی،حضرات خلفائے راشدین سواء حضرت عثمان غنی کے سب نے خلافت پر تنخواہیں لیں مگر ثواب کسی کا کم نہیں ہوا،ایسے ہی وہ علماء یا امام و مؤذن جو تنخواہ لے کر تعلیم،اذان،امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں اگر ان کی نیت خدمت دین کی ہے توان شاء اللهثواب بھی ضرور پائیں گے۔ہم نے اپنی تفسیر میں لکھاہے کہ شرعی مسئلہ بتانے کی اجرت لینا حرام ہے مگر فتویٰ لکھنے کی اجرت لینا جائز،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا یُضَآرَّکَاتِبٌ وَّلَا شَہِیۡدٌ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1785