Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 749

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ: "أَعُوْذُ بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيْمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" قَالَ: "فَإِذَا قَالَ ذٰلِكَ قَالَ الشَّيْطَان: حُفِظَ مِنِّيْ سَائِرَ الْيَوْمِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمرو ابن العاص قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول إذا دخل المسجد: "أعوذ بالله العظيم، وبوجهه الكريم، وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم" قال: "فإذا قال ذلك قال الشيطان: حفظ مني سائر اليوم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجدمیں داخل ہوتے تو یہ کہتے میں عظمت والے اللہ کی پناہ لیتا ہوں اس کی ذات کریم اور اس کے پرانے غلبے کے ذریعے مردود شیطان سے ۱؎فرمایا جب مؤمن یہ کہہ لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ مجھ سے سارا دن محفوظ رہے گا۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ خداکی صفات کو وسیلۂ دعا بنانا جائز ہے اور ہرشخص شیطان سے رب کی پناہ مانگے کوئی اپنے کو محفوظ نہ سمجھے۔آدم علیہ السلام معصوم تھے اور جنت خطہ محفوظ مگر پھربھی وہاں اس کا داؤ چل گیا تو ہم کس شمار میں ہیں،کہ نہ خودمحفوظ ہیں نہ ہمارے گھر اس سے محفوظ۔
۲
؎معلوم ہوا کہ شیطان دعاؤں کو بھی جانتا ہے ان کے اثرات کو بھی۔تفسیر کبیر نے فرمایا کہ شیطان ہر نیک و بدعمل سے خبردار ہے اسی لئے ہر نیکی سے روکتا ہے ہر گناہ کراتا ہے،بلکہ ہر ایک کے ارادے سے مطلع ہے اسی لیے ہرایک کوبہکاتا ہے۔جب اس فسادی کے علم کا یہ حال ہے تو مصلح عالم کے علم کا کیا حال ہوگا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم بھی شیطان کے ہر حال اور اس کے ہر کلام سے مطلع ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 749