Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 736

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ ابْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- نَهٰى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ، يَعْنِي: الْبَصَلَ وَالثُّومَ، وَقَالَ: "مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا". وَقَالَ:"إِن كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيْهِمَا فَأَمِيْتُوْهُمَا طَبْخًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن معاوية ابن قرة عن أبيه: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نهى عن هاتين الشجرتين، يعني: البصل والثوم، وقال: "من أكلهما فلا يقربن مسجدنا". وقال:"إن كنتم لا بد آكليهما فأميتوهما طبخا". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ ابن قرہ سے ۱؎وہ اپنے والدسے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو درختوں یعنی پیازو لہسن سے منع فرمایا اور فرمایا کہ جو یہ کھائے ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۲؎اورفرمایا اگرتمہیں ضروری کھانا ہو تو انہیں پکا کر مار دیاکرو ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام معاویہ ابن قرہ ابن ایاس ابن هلال ہے،قبیلہ مزینہ سے ہیں،بصرے کے رہنے والے مشہور تابعی ہیں،جنگ جمل کے دن پیدا ہوئے،ستر صحابہ سے ملاقات ہے، ۱۱۳ ھمیں وفات پائی۔(لمعات)
۲
؎یہ جملہ پہلے جملے کی تفسیر ہے،یعنی پیازولہسن کھانا حرام نہیں بلکہ کھاکر بدبودارمنہ لئے مسجد میں آنا حرام ہے۔خواہ وہاں نمازی ہوں یا نہ ہوں کیونکہ فرشتے ہروقت رہتے ہیں۔
۳
؎تا کہ ان کی بوجاتی رہے کیونکہ بدبو ہی ممانعت کی وجہ ہے۔پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ حکم ہر مسجد کا ہے،بلکہ ہر دینی مجلس میں اس کا خیال رکھا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 736